حدیث نمبر:22 اللہعَزَّوَجَلَّ کی خاطرجان کی قربانی
عَنْ عِمْرَانَ بْنِ الحُصَیْنِ الخُزَاعِیِّ رَضِِیَ اللہُ عَنْہُمَا:أَنَّ اِمْرَأۃً مِنْ جُہَیْنَۃَ أَتَتْ رَسُوْلَ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَہِیَ حُبْلٰی مِنَ الزِّنٰی ، فَقَالَتْ:یَا رَسُوْلَ اللہِ ، أصَبْتُ حَدّاً فَأَقِمْہُ عَلَیَّ ، فَدَعَا نَبِیُّ اللہِ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَسَلَّم وَلِیَّہَا ،فَقَالَ:أَحْسِنْ إِلَیْہَا ، فَإِذَا وَضَعَتْ فَأْتِنِیْ فَفَعَلَ فَأَمَرَ بِہَا نَبِیُّ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، فَشُدَّتْ عَلَیْہَا ثِیَابُہَا، ثُمَّ أَمَرَ بِہَا فَرُجِمَتْ،ثُمَّ صَلَّی عَلَیْہَافَقَالَ لَہُ عُمَرُ: تُصَلِّی عَلَیْہَا یَارَسُوْلَ اللہِ وَقَدْ زَنَتْ؟قَالَ:لَقَدْ تَابَتْ تَوْبَۃً لَوْ قُسِمَتْ بَیْنَ سَبْعِینَ مِنْ أَہْلِ الْمَدِینَۃِ لَوَسِعَتْہُمْ،وَہَلْ وَجَدْتَّ أَفضَلَ مِنْ أَنْ جَادَتْ بِنَفْسِہَا لِلّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ؟رَوَاہُ مُسْلِم
(مسلم ،کتاب الحدود، باب من اعترف علی نفسہ بالزنی، ص۹۳۳، حدیث:۱۶۹۶)
ترجمہ:حضرتِ سَیِّدُناعِمْرَان بِنْ حُصَیْن رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے روایت ہے کہجُہَیْنَہ قبیلے کی ایک عورت جو زِناسے حاملہ تھی بارگاہِ نَبوَّت میں حاضر ہوئی اور کہنے لگی :یارسول اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!میں حَد(گناہ کی سزا)کی مُستَحِق ہوں ،اُس (حد) کو مجھ پر قائم فرمادیں۔آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖٖ وَسَلَّمنے اس کے وَلی (سرپرست) کو بُلایا اور اُس سے فرمایا کہ اسے اپنے ہاں اچھے طریقے سے رکھو !جب بچہ پیدا ہو جائے تو اس کو میرے پاس لاؤ ۔چنانچہ، اس نے اسی طرح کیا ۔آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖٖ وَسَلَّم نے اس عورت کے متعلق حکم فرمایا کہ اس کے کپڑوں کو اس کے جسم پر باندھ دو اور اس کو رَجم کردو ۔چنانچہ ،وہ رَجْم کردی گئی ۔پھر آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖٖ وَسَلَّم نے اُس کی نمازِ جنازہ پڑھی۔ حضرتِ عمرفاروق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے خدمتِ اَقدس میں عرض کی:اس نے زِناکیاہے، آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖٖ وَسَلَّم پھر بھی اس کی نمازِجنازہ پڑھتے ہیں ؟ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖٖ وَسَلَّم نے اِرشاد فرمایا: اس نے ایسی توبہ کی ہے کہ اگر وہ مَدِینَۂ مُنَوََّرَہزَادَھَا اللہُ شَرَفًا وَتَعْظِیْمًا کے ستّر(70) آدمیوں پر تقسیم کی جائے تو اُن کی بخشش کے لئے کفایت کرے۔ کیااس سے بڑھ کر کوئی بات ہے کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی خاطر اس نے اپنی جان قربان کردی۔