نہیں ہوتا ،لمبی لمبی اُمیدیں دِلا کر نیکیوں سے دور رکھنے کی بھر پور کوشش کرتا ہے اور انسان اس کے بہکاوے میں آ کر نہ صرف نیک اعمال سے دور ہوجاتا ہے بلکہ اپنے گناہوں پر معافی مانگنے میں بھی سستی وغفلت سے کام لیتا ہے اور پھر ایسا بھی ہوتا ہے کہ انسان اچانک موت کا شکار ہو کر اندھیری قبر میں اتر جاتا ہے پھر سوائے حسرت وافسوس کے کچھ ہاتھ نہیں آتا۔ لہٰذا سمجھ دار وہی ہے جو جلد از جلد اعمالِ صالحہ و توبہ واِستِغْفَار کے ذریعے اپنے کریم پرْ وَردْگارعَزَّوَجَلَّ کو راضی کرلے۔ اللہعَزَّوَجَلَّ کی رضا پانے کا ایک بہترین ذریعہ اس کی راہ میں سفر کرنا بھی ہے۔اَلْحَمْدُ لِلّٰہعَزَّوَجَلَّ تبلیغِ قراٰن وسنت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک ’’دعوتِ اسلامی‘‘ کے زیرِ اہتمام عاشقانِ رسول راہِ خدا میں سفر کر کے اپنی اور ساری دنیا کے لوگوں کی اصلاح کے لئے مصروفِ عمل ہیں ،آپ بھی’’ دعوت اسلامی‘‘ کے مدنی ماحول سے وابستہ ہو کر مدنی قافلوں میں سفر کیجئے ، اِنْ شَاءَ اللہعَزَّوَجَلَّ دین ودنیا کی بھلائیاں نصیب ہونگی۔اللہ عَزَّوَجَلَّ ہمیں گناہوں سے بچنے اور نیک کاموں میں خوب بڑھ چڑھ کر حصہ لینے کی توفیق عطا فرمائے ۔
اللہکرم ایسا کرے تجھ پہ جہاں میں اے دعوتِ اسلامی تیری دھوم مچی ہو
اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم