اس لئے حضرتِ سَیِّدُنا معاذ بن جبل رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے غیبت سے روکتے ہوئے فرمایا :’’بِئْسَ مَا قُلْتَ‘‘یعنی تم نے بُری بات کہی یہ اس بات کی دلیل ہے کہ مسلمان کی غیبت کا رد کیا جائے گا۔ (شرح مسلم للنووی،کتاب التوبہ، باب حدیث توبۃ کعب بن مالک و صاحبیہ، ۹/۸۹، الجزء السابع عشر)
جنتی عمل
حضرتِ سَیِّدُناعبداللہ بِنْ عَمْرو رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا فرماتے ہیں کہ آقائے دو جہاں صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی بارگا ہ میں ایک شخص نے حاضر ہوکر عرض کیا:یارسولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! جنتی عمل کون سا ہے ؟ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا:سچ بولنا ،بندہ جب سچ بولتا ہے تو نیکی کرتا ہے اور جب نیکی کرتا ہے محفوظ ہوجاتا ہے اور جب محفوظ ہوجاتا ہے تو جنت میں داخل ہو جاتا ہے۔ پھر اس شخص نے عرض کی:یَا رَسُوْلَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! جہنم میں لے جانے والا عمل کونسا ہے ؟ فرمایا:جھوٹ بولنا، جب بندہ جھوٹ بولتا ہے تو گناہ کرتاہے اور جب گناہ کرتاہے توناشکری کرتا ہے اور جب ناشکری کرتا ہے تو جہنم میں داخل ہوجاتاہے۔(مسند امام احمد، مسند عبد اللہ بن عمرو بن العاص، ۲/۵۸۹، حدیث:۶۶۵۲)
لمحۂ فکریہ
عمدۃُ القاری میں ہے: حضرتِ سَیِّدُنا حسن بصری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں کہ ان تینوں حضرات نے نہ تو مالِ حرام کھایا، نہ کسی کا ناحق خون بہایا، نہ زمین میں فساد پھیلایا لیکن پھر بھی ان پر بہت سخت آزمائش آئی ،زمین اپنی تمام تر وسعت کے باوجودان پر تنگ ہوگئی، تو پھراس شخص کا کیا حال ہوگا جو فواحش وکبیرہ گناہوں میں پڑا ہوا ہے ۔
(عمدۃ القاری، کتاب المغازی، باب فی حدیث کعب بن مالک، ۱۲/۳۷۹، تحت الحدیث:۴۴۱۸)
تُوْبُوْا اِلَی اللہ اَسْتَغْفِرُ اللہ
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد