Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین
264 - 627
سیدناکَعْب بِنْ مَالِکرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  
	آپ َرضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  انصاری خزرجی ہیں۔عقبۂ ثانیہ میں شریک ہوئے۔ بدر کی حاضری میں اختلاف ہے، سوائے تبوک کے تمام غزوات میں شریک ہوئے ۔حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے خاص شاعروں میں سے ہیں۔ آپ کے متعلق سورۃ توبہ میں قبولِ توبہ کی آیت نازل ہوئی۔ آپ نے ایک جماعت سے روایت کی 77 سال عمر پائی 50 ھ میں وفات پائی آخری عمر میں آپ نابینا ہوگئے تھے ۔       ( مراٰٰۃ المناجیح، ترجمہ اکمال( حالات صحابہ وتابعین)۸/۷۵)
سیدنامُرَارَہ بِنْ رَبِیْع عَامِرِیرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  
	آپ عامری انصاری ہیں بدر میں شریک ہوئے آپ ان تین افراد میں سے ہیں جن کی توبہ قبول ہوئی ۔ 
 (الاصابہ فی تمییز الصحابہ، ۶/ ۵۲)
سیدناہِلَال بِنْ اُمَیَّہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ 
	 آپ انصاری صحابی ہیں غزوہ بدر میں شریک ہوئے آپ سے حضرت ِجابر اورحضرتِ ابن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ نے روایت کی آپ قدیم الاسلام ہیں۔ بنو واقف کے بتوں کو بھی آپ ہی نے توڑا تھا۔ (اسد الغابہ ، ۵/۴۲۲)
سچائی میں نجات ہے
	میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! سچ ہمیشہ نجات دِلاتا ہے جبکہ جھوٹ ہلاکت و بربادی کی طرف لے جاتا ہے ۔ حضرتِ سَیِّدُنا کَعْب بن مالک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُاور انکے دونوں ساتھیوں نے سچ بولا تو انہیں وقتی طور پر اگرچہ آزمائش میں مبتلا کیا گیا لیکن پھر انھیں جو عزت ومقام ملا وہ کسی اور کو نہ ملا جبکہ جھوٹ بولنے والوں سے اگرچہ وقتی طور پر کچھ مُواخَذہ نہ ہوا لیکن اُن کا اَنجام بہت بُرا ہو ۔ سچ بولنے والوں کی تعریف بیان کرتے ہوئے اللہ عَزَّوَجَلَّ قراٰن مجید فرقانِ حمید میں ارشاد فرماتا ہے: