Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین
263 - 627
 اجازت داخل ہونا جائز ہے ، جب کسی کو کوئی نعمت ملے یا کوئی بڑی مصیبت دور ہوتو اسے خوشخبری دینا مستحب ہے ، غم یامصیبت کے ٹل جانے پر صدقہ کرنا مستحب ہے ۔ (عمدۃ القاری، کتاب المغازی، باب فی حدیث کعب بن مالک، ۱۲/۳۷۹، تحت الحدیث:۴۴۱۸)
 صحابۂ کرام رِضْوَانُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْھِمْ اَجْمَعِیْن   کا جذبۂ ایمانی 
 	 اس حدیثِ پاک کے تحت شارح بخاری مفتی  شریف الحق امجدی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی’’نزھۃ القاری‘‘ میں فرماتے ہیں : غزوۂ تبوک میں دنیاکی سب سے بڑی طاقت ’’رُوم‘‘ سے مقابلہ تھا اس لیے نَفِیْرِعام (ہر خاص و عام کو جہاد ) کا حکم ارشاد فرمایا تھا کہ جو بھی جہاد کی اِسْتِطَاعَت رکھتا ہے وہ ضرورسا تھ ہولے اور زمانہ سخت عُسْرَت(تنگی) کاتھا اور کھجوریں پک چکی تھیں حضورِ پاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖٖ وَسَلَّمنے اخراجاتِ جنگ کے لئے چندہ فرمایا اسی موقع پراَمیرُ الْمُؤمِنِیْن حضرتِ سَیِّدُنا صدیقِ اکبر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے اپنا کُل مال اور اَمیرُ الْمُؤمِنِیْن حضرتِ سَیِّدُنا فاروق ِ اعظم  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے آدھا مال نذر کیا تھا ،لیکن اس غزوے کی تَجْہِیْز (تیاری)کا سہرااَمیرُ الْمُؤمِنِیْن حضرتِ سَیِّدُنا حضرتِ عثمانِ غنی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکے سر رہا۔اسی وجہ سے جو لوگ اِسْتِطَاعَت کے باوجود اس غزوے میں شریک نہ ہوئے ان پر سخت عِتاب ہوا ،اَنصار میں سے اَسّی(80)سے کچھ زائدافراد غزوے میں شریک نہ ہوئے ،حضورِ اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖٖ وَسَلَّم جب اس غزوے سے مدینہ طیبہ واپس ہوئے ،تو تین کے علاوہ بقیہ تمام پیچھے رہ جانے والوں نے عذر بیان کرکے جھوٹی قسمیں کھاکر اپنی صفائی پیش کی جن سے کوئی مُوَاخَذَہ (پوچھ گچھ ، پکڑ)نہیں ہوا،اس لئے کہ یہ لوگ مومن مخلِص نہ تھے ،منافق تھے۔ البتہ تین حضراتِ مؤمنین مخلِصین میں سے تھے ،انہوں نے اپنی کوتاہی کا اِعتراف کیا،جس کی وجہ سے اُن پر( وقتی طور پر) عتاب ہوا،( لیکن پھر عظیم ا لشان انعام سے نوازے گئے)جسکی پوری تفصیل اور ایمان افروز احوال حدیث ِمذکور میں بیان ہوئے ۔
(نزھۃ القاری، ۴/ ۸۷۸)