Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین
262 - 627
rرِجْسٌ۫ وَّمَاۡوٰىہُمْ جَہَنَّمُۚ جَزَآءًۢ بِمَا کَانُوۡا یَکْسِبُوۡنَ ﴿۹۵﴾ یَحْلِفُوۡنَ لَکُمْ لِتَرْضَوْا عَنْہُمْ ۚ فَاِنۡ تَرْضَوْا عَنْہُمْ فَاِنَّ اللہَ لَایَرْضٰی عَنِ الْقَوْمِ الْفٰسِقِیۡنَ ﴿۹۶﴾( پ:۱۱،التوبۃ:۹۵،۹۶)
نہ پڑو، تو ہاں تم ان کا خیال چھوڑو، وہ تو نرے پلید ہیں ، اوران کا ٹھکانہ جہنم ہے ، بدلہ اس کا جو کماتے تھے ۔ تمہارے آگے قسمیں کھاتے ہیں کہ تم ان سے راضی ہو جاؤ تو اگر تم ان سے راضی ہو جاؤ، تو بے شک اللہ  تو فاسق لوگوں سے راضی نہ ہوگا۔ 
 	حضرتِ کَعْب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہفرماتے ہیں ، ہم تینوں کا معاملہ ان لوگوں سے الگ ہے جن کے قسم کھانے پر رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اُن کا عذر قبول فرمالیا لیکن آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ہمارا معاملہ مؤخَّر کردیا یہاں تک کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ نے ہمارا فیصلہ یوں فرمایا :’’ وَعَلَی الثَّلٰثَۃِ الَّذِیْن خُلِّفُوْا۔۔الخ‘‘ ا س آیت سے غزوہ سے پیچھے رہ جانا مراد نہیں بلکہ اس سے آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا ہمارے معاملہ کو اُن لوگوں کے معاملہ سے مؤخر کردینا مراد ہے، جنہوں نے آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے قسمیں کھائیں اور عذر خواہی کی اور آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اُن کا عذر قبول فرمالیا۔ ایک روایت میں ہے کہنبیِّ کریم  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمغزوئہ تبوک کے لئے جمعرات کے دن تشریف لے گئے اور آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمجمعرات کے دن سفر کرنا پسند فرماتے تھے۔ ایک روایت میں ہے کہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسفر سے چاشت کے وقت واپس تشریف لاتے، پہلے مسجد میں دو رکعت نماز ادا فرماتے پھر تشریف فرما ہوتے۔
کسی کی مصیبت دور ہونے پر اسے خوشخبری دینا  
	علامہ بَدْرُ الدِّیْنعَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الغَنِی عمدۃ القاری شرح بخاری میں فرماتے ہیں : اس حدیث سے پچاس سے زائد فوائد حاصل ہوتے ہیں ( جن میں سے چند یہ ہیں ) اس امت کے لئے مالِ غنیمت حلال ہے ، سفر سے  لَوٹنے والے کے لئے گھر جانے سے پہلے مسجد میں جاکر نمازِ( نفل )اد ا کرنا مستحب ہے ،د وست کے باغ میں بغیر