Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین
260 - 627
 عَلَیْہِ وَاٰلِہٖٖ وَسَلَّمکی خدمت میں حاضری کے لئے چل دیا، لوگوں کی فوج در فوج نے مجھ سے ملاقات کی اور قبولیتِ توبہ کی مبارکباد دینے لگے۔ وہ کہہ رہے تھے مبارک ہو! اللہ عَزَّوَجَلَّ نے تمہاری توبہ قبول فرمالی ہے، جب میں مسجد میں پہنچا تو دیکھا کہ رسولِ اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖٖ وَسَلَّمتشریف فرما ہیں اور لوگ آپ کے اردگرد بیٹھے ہیں۔طَلحہ بن عبید اللہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ مجھے دیکھ کر جلدی سے میری طرف لپکے مجھ سے مصافحہ کیا اور مبارک باد دی، اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم ! مہاجرین میں سے اُن کے سوا کوئی نہیں اُٹھا ( راوی کہتے ہیں )حضرت کعب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے حضرتِ طلحہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی اس عنایت کو کبھی فراموش نہیں کیا ۔حضرت سیدنا کَعْبرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں کہ جب میں نے نبیِّ اَکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖٖ وَسَلَّمکی خدمت میں سلام عرض کیا تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖٖ وَسَلَّمکا چہرئہ انور خوشی سے دمک رہا تھاآ پ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖٖ وَسَلَّمنے مجھ سے فرمایا :’’تمہیں اس دن کی خوشخبری ہو کہ جب سے تمہاری ماں نے تمہیں جنا، آج کا دن سب سے بہتر دن ہے۔‘‘ میں نے عرض کی :’’یارسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖٖ وَسَلَّم! یہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖٖ وَسَلَّمکی طرف سے ہے یا اللہ عَزَّوَجَلَّ کی طرف سے ؟ فرمایا: ’’ نہیں بلکہ اللہ عَزَّوَجَلَّکی طرف سے ۔ ‘‘ اور رسول اکرم، نورِ مجسم ،شاہِ بنی آدم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖٖ وَسَلَّمخوش ہوتے تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا چہرہ خوشی سے چاند کی طرح چمکنے لگتا گویا کہ چاند کا ایک ٹکڑا ہو۔اس سے ہمیں آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖٖ وَسَلَّم کی خوشی کا اندازہ ہو جاتا، جب میں آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖٖ وَسَلَّم کے سامنے بیٹھ گیا تو عرض کی :یارسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖٖ وَسَلَّم! میری توبہ کی تکمیل یہ ہے کہ میں اپنا مال اللہ عَزَّوَجَلَّ اور اس کے رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖٖ وَسَلَّمکے نام پر صدقہ کردوں۔ نبیِّ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖٖ وَسَلَّمنے فرمایا ،کچھ مال اپنے پاس ر کھو، تمہارے لئے بہتر ہے، میں نے عرض کی ،میں اپنا خَیْبَر والا حصہ رکھ لیتا ہوں اور اللہ عَزَّوَجَلَّنے مجھے سچ بولنے کے سبب نجات عطا فرمائی ہے ، لہٰذا میری تکمیلِ توبہ سے یہ بھی ہے کہ میں آیندہ بھی ہمیشہ سچ ہی بولوں گا ۔ پس اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم ! جب سے میں نے رسول اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖٖ وَسَلَّمسے یہ بات کہی اس وقت سے میں کسی ایسے مسلمان کو نہیں جانتا جسے اللہ عَزَّوَجَلَّ نے سچ بولنے کی وجہ سے مجھ سے زیادہ انعام عطا فرمایا ہواور رسولِ اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے عرض کرنے کے بعد سے آج تک میں نے کبھی جھوٹ بولنے کا ارادہ بھی نہیں کیا اور