بھی آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖٖ وَسَلَّمنے یہی پیغام بھیجوایا، میں نے اپنی زوجہ سے کہاکہ تم اپنے ماں باپ کے ہاں چلی جاؤ اور جب تک اللہ عَزَّوَجَلَّ اس معاملہ میں کوئی فیصلہ نہ فرمائے وہیں رہو۔ ہِلال بِن اُمَیَّہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکی زوجہ محترمہ نے رسول کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیہِ وَاٰلِہٖٖ وَسَلَّمکی خدمت اقدس میں حاضر ہو کر عرض کی :’’ یارسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖٖ وَسَلَّم! ہِلال بِن اُمَیَّہ بہت بوڑھے ہیں اُن کے پاس کوئی خادِم بھی نہیں ، اگر میں اُن کی خدمت کرتی رہوں تو کیا آپ اِس کو ناگوار سمجھیں گے؟ فرمایا : نہیں۔ لیکن وہ تیرے نزدیک نہ آئے۔ انہوں نے عرض کی :’’اللہ عَزَّوَجَلَّکی قسم !وہ تو اب ایسی باتوں کی طرف توجہ ہی نہیں کرتے اور جب سے یہ واقعہ پیش آیا وہ اب تک مسلسل رو رہے ہیں۔ــ‘‘( حضرتِ سیدناکَعْبرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں :) میرے گھر والوں میں سے کسی نے مجھ سے کہا تم بھی رسول اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖٖ وَسَلَّمسے اپنی زوجہ کے بارے میں اجازت لے لیتے۔ ہِلال بِن اُمَیَّہ کی زوجہ کو رسولِ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖٖ وَسَلَّمنے ان کی خدمت کی اجازت دے دی ہے میں نے کہابخدا : میں ایک جوان آدمی ہوں میں اس بارے میں رسول اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖٖ وَسَلَّمسے اجازت نہیں لوں گا اور مجھے یہ بھی معلوم نہیں کہ آپ مجھے کیا جواب ارشاد فرمائیں گے۔ اِسی حالت میں دس(10) راتیں اور گزر گئیں۔ جب پچاس(50) راتیں پوری ہوگئیں ، تو پچاسویں رات کی صبح کو میں نے گھر کی چھت پر صبح کی نماز پڑھی اور میری بالکل وہی حالت تھی جس کا اللہ عَزَّوَجَلَّنے ذکر فرمایا ۔ میں اپنی جان سے بیزار ہوچکا تھا: اور زمین کشادگی کے باوجود مجھ پر تنگ ہوچکی تھی، اچانک میں نے’’ سَلْع‘‘ پہاڑی پرایک مُنَادِی کی آواز سنی جو با آواز بلند کہہ رہا تھا ’’اے کَعْب بن مالک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ! تمہیں خوشخبری ہو۔‘‘ یہ سن کر میں سجدے میں گر پڑا مجھے معلوم ہوگیا کہ فراخی کا وقت آچکا ہے، رسول اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖٖ وَسَلَّمنے نمازِ فجر کے بعد لوگوں میں اِعلان فرمادیا کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ نے ہماری توبہ قبول فرما لی ہے۔ چنانچہ، لوگ مجھے خوش خبری دینے لگے ، میرے ساتھیوں کی طرف بھی خوشخبری دینے والے جانے لگے۔ ایک شخص گھوڑا دوڑاتا ہوا میری طرف آیا، اسلم قبیلہ سے ایک آدمی دوڑ کر پہاڑ پر چڑھ گیا۔ اس کی آواز گُھڑ سوار کی رفتارسے تیز تھی ۔( لہٰذا پہلے مجھ تک پہنچی ) جب خوشخبری سنانے والا میرے پاس آیا تو میں نے اپنے کپڑے اتار کر اُسے دے دیئے،یہ خوشخبری سنانے کا صِلہ تھا ۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم ! میں اس وقت صرف اُن دو کپڑوں کا مالک تھا، پھر میں نے دو کپڑے ادھار لے کر پہنے اور رسول اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی