Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین
258 - 627
Rپھرتا، لیکن کوئی آدمی مجھ سے بات نہ کرتا، میں بارگاہِ رسالت  میں حاضر ہوتا، حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖٖ وَسَلَّمنماز کے بعد تشریف فرما ہوتے میں سلام عرض کرتا اوردل میں کہتا آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖٖ وَسَلَّم نے میرے سلام کا جواب دینے کے لیے لب مبارک ہلائے ہیں یا نہیں ؟ پھر میں آپ کے قریب ہی نماز پڑھتا اور نظر چرا کر دیکھتا جب میں نماز میں مشغول ہوتا،تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖٖ وَسَلَّم میری طرف دیکھتے اور جب میں آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖٖ وَسَلَّم کی طرف دیکھتا آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖٖ وَسَلَّم دوسری طرف توجہ فرما لیتے ، جب لوگوں کے مجھ سے قطع تعلق کو ایک طویل عرصہ گزر گیا تو میں ایک دن اپنے چچا زاد بھائی حضرت ابوقتادہ (رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ)  کے باغ کی دیوار پھلانگ کران کے پاس گیا وہ مجھے سب سے زیادہ محبوب تھے ۔میں نے سلام کیا لیکن انہوں  نے جواب نہ دیا، میں نے کہا: اے ابوقتادہ  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ! تم کو خدا کی قسم دے کر پوچھتا ہوں کیا تم نہیں جانتے کہ میں اللہ عَزَّوَجَلَّاور اس کے رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖٖ وَسَلَّمسے محبت رکھتا ہوں ؟ وہ خاموش رہے، میں نے دوبارہ ان کو قسم دی وہ پھر خاموش رہے، میں نے تیسری بار قسم دی تو کہنے لگے اللہعَزَّوَجَلَّ  اور اس کا رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖٖ وَسَلَّم بہتر جانتے ہیں۔ ( یہ سُن کر) میری آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے، میں واپس لوٹا اور دیوار پھلانگ کر باہر آگیا، حضرت کَعْبرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں ، میں ایک دن مدینے کے بازار میں تھاکہ ملکِ شام کا ایک کسان جو غلہ بیچنے مدینہ منورہ آیا تھااس نے کہا کہ مجھے کعب بن مالک کا پتہ کون بتائے گا؟ لوگوں نے میری طرف اشارہ کیا تواس نے مجھے شاہِ غَسّان کا ایک خط دیا،جس میں لکھا تھا :
	’’ اَمَّا بَعَد ! مجھے پتا چلا ہے کہ تمہارے ساتھی (یعنی رسول اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖٖ وَسَلَّم) نے تم پرظلم کیا ۔ حالانکہ اللہ عَزَّوَجَلَّنے تمہیں ذِلت و رسوائی کا گھر نہیں دیا ہے، ہمارے پاس چلے آؤ،ہم تمہاری خاطر کریں گے۔‘‘
 	حضرت ِ کَعْبرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں کہ ، خط پڑھ کر میں نے کہا کہ یہ بھی ایک آزمائش ہے، پس میں نے وہ خط جلتے تنور میں ڈال دیا، جب پچاس(50) راتوں میں سے چالیس(40) راتیں گزر گئیں اور وحی میں بھی تاخیر ہوئی تو ایک دن رسول اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖٖ وَسَلَّمکے قاصد نے آ کر کہاکہ رسول کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖٖ وَسَلَّمتمہیں حکم دیتے ہیں کہ اپنی زوجہ کو علیحدہ کردو۔میں نے کہا :کیا اسے طلاق دے دوں ؟ کہا ،نہیں بلکہ اسے علیحدہ کردو اور اس سے قربت نہ کرنا ۔میرے دوسرے ساتھیوں کو