Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین
257 - 627
 پیچھے رکھا ،کیا تونے سواری نہیں خریدی تھی؟ میں نے عرض کی:’’ یارسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖٖ وَسَلَّم! اگر آپ کے علاوہ کسی دنیا دار کے پاس بیٹھا ہوتا تو یقیناً کسی بہانے اس کی ناراضی سے بچ جاتا، مجھے قوتِ کلام عطا کی گئی ہے، لیکن اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم ! اگر آج میں جھوٹ بول کر آپ کو راضی کرلوں تو عنقریب اللہ عَزَّوَجَلَّآپ کو مجھ سے ناراض کردے گا اور اگر آپ سے سچ سچ کہہ دوں گا تو(اگر چہ ) آپ ناراض ہوجائیں گے۔ لیکن مجھے اللہ عَزَّوَجَلَّ سے اچھے انجام کی اُمید ہے، اللہ عَزَّوَجَلَّکی قسم ! مجھے کوئی مجبوری نہ تھی، وَاللہ ! میں کبھی اس سے زیادہ قُوّت و فَرَاخی والا نہ تھا، جب میں آپ سے پیچھے رہا۔
	رسولِ اَکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖٖ وَسَلَّمنے فرمایا :اس شخص نے سچ کہا۔( پھر فرمایا:) اُٹھ جاؤ، یہاں تک کہ اللہ عَزَّوَجَلَّتمہارے بارے میں کچھ فیصلہ فرمائے۔ چنانچہ ،میں اُٹھ گیا اور بنو سلمہ کے کچھ لوگ بھی میرے پیچھے چل پڑے، کہنے لگے، خدا کی قسم ! ہمارے علم کے مطابق اس سے پہلے تم سے کوئی گناہ سرزد نہیں ہوا، دوسرے لوگوں کی طرح تم سے کوئی عذر کیوں نہ بن سکا ، تمہارے گناہ کی معافی کے لیے رسول اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖٖ وَسَلَّمکا بخشش کی دعا مانگنا ہی کافی تھا ۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم ! وہ مسلسل مجھے مَلامَت کرتے رہے، یہاں تک کہ میں نے اِرَادہ کیا کہ واپس جاکر اپنے آپ کو جھٹلاؤں ، پھر میں نے پوچھا کیا اس معاملہ میں میرے ساتھ کوئی اور بھی شریک ہے، انہوں نے کہا کہ ہاں دو آدمی اور بھی ہیں ، انہوں نے بھی وہی بات کہی جو تم نے کہی انہیں بھی تمہاری طرح کا جواب دیا گیا ہے ۔ میں نے پوچھا :وہ کون ہیں ؟ کہا :’’ مُرَارَہ بِن رَبِیْع عَمْرِی اورہِلاَل بن أُمَیَّہ وَاقِفِی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا‘‘یہ دونوں بہت نیک تھے ،غزوہ ٔبدر میں شریک ہوچکے تھے اور میرے لئے بہترین نمونہ تھے، جب مجھے ان کا معلوم ہوا تو میں اپنی سچائی پر قائم رہا ، رسول اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖٖ وَسَلَّمنے غزوہ تبوک سے پیچھے رہ جانے والوں میں سے صرف ہم تینوں سے قطع کلامی کا حکم فرمایا۔چنانچہ، لوگ ہم سے دور رہنے لگے،یہاں تک کہ میرے لئے زمین بھی بدل چکی تھی گویا کہ یہ وہ زمین نہ تھی جس کو میں اس سے پہلے پہچانتا تھا۔ پچاس( 50)دن تک ہماری یہی حالت رہی، میرے دونوں ساتھی عاجز ہو کر اپنے گھروں میں بیٹھے رونے لگے۔
	 چونکہ میں ان سے جوان اور طاقت وَر تھا، اس لیے باہر نکلتا مسلمانوں کے ساتھ نماز میں شریک ہوتا اور بازاروں میں گھومتا