Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین
256 - 627
 رسولِ اَکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖٖ وَسَلَّمنے تبوک پہنچنے تک میرا ذکر نہ کیا، تبوک میں آپ صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکی مجلس میں تشریف فرما تھے کہ آپ نے پوچھا: کَعْب بن مالک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کا کیا بنا؟ بَنُو سَلِمَہکے ایک آدمی نے کہا، یارسول اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖٖ وَسَلَّم!اُسے دو چادروں اور دونوں پہلوؤں کے نظارے نے روک لیا ہے۔ حضرتِ سَیِّدُنامعاذ بن جبل رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے اس سے فرمایا :تم نے بری بات کہی ہے ، یارسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖٖ وَسَلَّم! ہم ان کے متعلق بھلائی کے سوا کچھ نہیں جانتے (ان کا پیچھے رہنا کسی مجبوری کی وجہ سے ہوگا) ۔رسول اکرمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖٖ وَسَلَّم خاموش ہوگئے، اِسی دوران آپ عَلَیْہِ السَّلَامنے ایک شخص کو سفید لباس میں ریگستان سے آتے ہوئے دیکھ کر فرمایا :’’ ابو خثیمہ ہوجا!‘‘ جب وہ آئے تو واقعی ابوخثیمہ انصاری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُتھے۔ یہ وہی صحابی ہیں جنہوں نے ایک صاع کھجور صَدَقہ کی تھیں تو منافقین نے( اس کم مقدار پر) انہیں طعنہ دیا تھا ۔ حضرتِ کَعْب فرماتے ہیں جب مجھے پتا چلا کہ نبیِّ اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖٖ وَسَلَّم مع لشکرتبوک سے واپس تشریف لارہے ہیں ،تو میرا غم تازہ ہوگیا اورجھوٹے خیالات دل میں آنے لگے اور میں سوچنے لگا کہ کل کس بات کے ذریعے حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖٖ وَسَلَّم کی ناراضی سے بچ سکوں گا۔ اس سلسلے میں ، میں نے اپنے گھر کے تمام سمجھ دار لوگوں سے مشورہ کیا ۔جب یہ مشہور ہوگیاکہ عنقریب حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖٖ وَسَلَّم تشریف لانے ہی والے ہیں ،تو میرے ذہن سے تمام جھوٹے بہانے نکل گئے اور میں نے جان لیا کہ میں حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖٖ وَسَلَّمکے غضب سے کسی جھوٹ کے باعث ہر گز نہ بچ سکوں گا۔ لہٰذا اب میں نے سچ بولنے کاپختہ ارادہ کرلیا۔نبیِّ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖٖ وَسَلَّمصبح کے وقت تشریف لائے آپ کی عادتِ مبارکہ تھی کہ سفر سے واپسی پر پہلے مسجد میں تشریف لاتے، دو رکعت نماز ادا فرما کر لوگوں کے درمیان بیٹھ جاتے۔
	 حسبِ معمول آپ نے ایسا ہی کیا، پھر غزوہ سے پیچھے رہ جانے والے لوگ قسمیں کھا کھاکر عذر پیش کرنے لگے، ان کی تعداد اَسّی(80) سے کچھ زائد تھی ، آپ نے ظاہر کو قبول کرتے ہوئے ان کی بَیْعَت کی تجدید کی ، ان کے لیے دعائے مغفرت فرمائی اور ان کا باطن اللہ عَزَّوَجَلَّ کے سپرد کردیا۔ پھر میں حاضر ہوا، سلام عرض کیا تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖٖ وَسَلَّم نے غضب آمیز تَبسُّم فرمایا اور کہا: ’’ آگے آؤ۔‘‘ چنانچہ ،میں آپ کے سامنے جا بیٹھا ، آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖٖ وَسَلَّم فرمایا : تجھے کس چیز نے غزوے سے