Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین
255 - 627
اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖٖ وَسَلَّماور مسلمان، قریش کے قافلہ کے ارادہ سے تشریف لے گئے تھے۔یہاں تک کہ اللہ عَزَّوَجَلَّنے مسلمانوں اور ان کے دشمنوں کو بغیر کسی میعاد کے اکٹھا کر دیا، میں عقبہ کی رات میں بھی بارگاہِ نَبَوی میں حاضر تھا ،جب ہم نے اسلام کی اِعانت پر عَہد و مِیثاق کیا تھا، میں اس کے مقابلہ میں بدر کی شرکت کو زیادہ پسند نہ کرتا تھا، حالانکہ لوگوں میں بدر کا زیادہ چرچا تھا۔ غزوئہ تبوک سے میرے پیچھے رہنے والوں کا واقعہ یوں ہے، کہ میں دوسرے غزوات کی بہ نسبت ان دنوں زیادہ طاقت وَرْ اور بہت مالدار تھا۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم! اس سے پہلے میرے پاس کبھی دو سواریاں اکٹھی نہیں ہوئیں ، جب کہ اس موقع پر مجھے دو سواریاں مَیسَّر تھیں ، اور نبیِّ اکرمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖٖ وَسَلَّم کا معمول تھا کہ جب کسی غزوہ کا ارادہ فرماتے تو اصل معاملہ لوگوں سے مخفی رکھتے ۔ اس غزوے کے وقت گرمی شدید، سفر دراز ، راستے میں غیر آباد جنگل اور قدم قدم پر دشمن موجود تھے۔ چنانچہ، آ پ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖٖ وَسَلَّم نے مسلمانوں کے سامنے تمام معاملہ واضح کردیا تاکہ اس کے مطابق زادِ راہ تیار کرلیں ،ا نہیں یہ بھی بتادیا کہ کس طرف جانا ہے۔ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖٖ وَسَلَّمکے ہمراہ مسلمانوں کی کثیر تعداد تھی، کسی رجسٹر وغیرہ میں ان کے نام محفوظ نہیں کئے گئے تھے، حضرت سیدنا کَعْبرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں کہ جو شخص غائب ہونا چاہتا اس کا خیال ہوتا کہ اس کی غیر حاضری پوشید ہ رہے گی جب تک کہ اس کے بارے میں وحی نازل نہ ہو۔ رسول اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖٖ وَسَلَّماس غزوہ کے لیے اس وقت تشریف لے گئے جب پھل اور سائے مرغوب تھے، مجھے بھی ان چیزوں کی طرف رغبت تھی۔ رسول کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖٖ وَسَلَّماور مسلمان جہاد کی تیاری کرچکے تھے، میں صبح کے وقت تیاری شروع کرنے کا ارادہ کرتا لیکن پھر کچھ نہ کرتا اور اپنے دل میں یہی کہتا کہ میں اس پر قادر ہوں کہ جب چاہوں گا سامان تیار کر لوں گا ۔اسی طرح دیر ہوتی چلی گئی یہاں تک کہ لوگوں کی کوششیں تیز ہوگئیں اور ایک صبح مسلمان رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖٖ وَسَلَّم کے ساتھ روانہ ہوگئے اور میں نے ابھی تک کوئی تیاری نہیں کی ،میرا یہی حال رہا اور مسلمان تیزرفتاری سے چلتے ہوئے بہت دور نکل گئے، میں نے چاہا کہ میں جاکر ان سے مل جاؤں اور کاش کہ میں نے ایسا کرلیا ہوتا مگر میری تقدیر میں ایسا نہیں تھا۔رسولِ اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖٖ وَسَلَّمکے تشریف لے جانے کے بعد جب میں باہر لوگوں کی طرف نکلتا تو مجھے یہ دیکھ کر دُکھ ہوتا کہ منافقین اور کمزورومعذور افراد کے سوا اپنے جیسا کوئی دوسرا نظر نہ آتا۔