Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین
247 - 627
مَدَنی گلدَستہ
’’ عَفْو وکَرَم‘‘ کے 7 حروف کی نسبت سے حد یثِ
 مذکوراور اس کی وضاحت سے ملنے والے7 مدنی پھول
(1)پچھلی اُمتوں کے واقعات بیان کر کے مُتَّبِعِین کی اِصلاح کرنا ہمارے پیارے آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی سُنَّتِ مبارَکہ ہے۔
(2) رَ ہبانِیَت حضرتِ سَیِّدُنا عیسیٰ عَلٰی نَبِیِّنَا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے مُتَّبِعِیْن سے شروع ہوئی۔راہب وہ پادری،  جَوگی کہلاتے تھے، جو خوفِ خدا میں تَارِکُ الدُّنْیا (دنیا سے بے رغبت) ہوجاتے تھے ، ایک گوشہ میں بیٹھ کر اَﷲ اَﷲ ہی کرتے تھے ان میں سے اکثر عالِم بھی ہوتے تھے یہود و نصاریٰ کے ہاں ترکِ دنیا بہترین عبادت تھی۔ 
(مراٰۃ المناجیح ، ۳ /۳۵۶)
 (3)دینی مسائل ہمیشہ علمائے کرام رَحِمَھُمُ اللہُ السَّلَام ہی سے معلوم کرنے چاہئیں ، مسئلہ پوچھنے کے لئے عالِموں کے پاس جانا عبادت ہے نیز عالِم کے شہر کی تعظیم اور اس طرف منہ کرکے سونا یا مرنا بھی ربّ تعالیٰ کو پسند ہے ۔سنت یہ ہے کہ مومن کعبہ کو منہ اور سینہ کرکے سوئے، میت کو بھی کعبہ کے رُخ دَفن کیا جاتا ہے ، بعض عُشَّاق ،مَدِینَۂ مُنَوََّرَہزَادَھَا اللہُ شَرَفًا وَّتَعْظِیْمًا یا بغداد شریف کی طرف منہ کرکے دعائیں مانگتے ہیں ، نمازِ غوثیہ میں بعدِ نماز گیارہ قدم ’’بغداد شریف‘‘ کی طرف منہ کرکے چلتے ہیں اور اُدھر ہی منہ کرکے دعا مانگتے ہیں ، اُن سب کی اصل مذکورہ حدیث ہے۔ دیکھو!اس شہر میں کَعْبَۂ مُعَظَّمَہیا بَیْتُ الْمُقَدَّس نہ تھا۔ صرف نیک لوگوں کی بستی تھی جس کے ادب کی برکت سے مذکورہ شخص(یعنی 100 لوگوں کا قاتل ) بخشا گیا۔
 (4)اللہ عَزَّوَجَلَّ کی رحمت سے کبھی مایوس نہیں ہونا چاہیے کیونکہ مایوسی مزید گناہوں پر اُبھارتی ہے۔سچّی توبہ سے بڑے سے بڑے گناہ بھی معاف ہو جاتے ہے۔