Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین
248 - 627
 ( 5)اولیائے کرام رَحِمَھُمُ اللہُ السَّلَام کی زیارت و ملاقات کے لئے جانا نیکی وبھلائی کا باعث ہے اگر کسی وجہ سے زیارت و ملاقات نہ ہو سکے تب بھی اچھی نیت کی بَرَکت سے کثیر اَجرو ثواب ملتا ہے ۔ 
(6)توبہ کرنے والے کے لئے مُستَحَب ہے کہ وہ گناہ والی جگہ کو چھوڑ دے۔
 (7)اللہ عَزَّوَجَلَّ کے محبوب اور مُقَرَّب بندوں سے عَقِیدَت ومَحَبَّت باعثِ مغفرت ہے اور اُن کے  قُرب میں توبہ بہت جلد قُبول ہوتی ہے ۔
	اللہ عَزَّوَجَلَّ ہمیں اولیائے کرام رَحِمَھُمُ اللہُ السَّلَامکی سچّی مَحَبَّت عطا فرمائے، اپنے گناہوں پر نَدامت وسچّی توبہ کی توفیق عطا فرمائے، ہمیں ہر وقت اپنی رحمت کے سائے میں رکھے۔ 
 اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب	صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

خسارے کا سودا
	جس شخص کے پاس ایک نفیس شے ہو جسے بیچ کر وہ لاکھوں دینار وصول کرسکتا ہو پھر وہ ایک پیسے کے عوض فروخت کردے تو کیا یہ عظیم خسارہ نہیں کہلائے گا؟ اور یہ انتہائی درجہ کا نقصان نہیں؟ بِعَیْنِہٖ یہی حالت اس بندے کی ہے جو اپنے عمل سے خداتعالی کی رضا، اس کی بارگاہ میں اپنے عمل کی قبولیت ، مدح و ستائش اور ثواب کو چھوڑ کر مخلوق کی طرف سے تعریف و توصیف اور ذلیل دنیا کا طلب گار ہو۔
(جنت کے طلبگاروں کے لئے مدنی گلدستہ، ص۴۰۲)