(3) ماں سے بھی زیادہ مہربان
’’تفسیر نعیمی‘‘ میں ہے کہ ’’ دو بھائی تھے ، ایک پرہیز گار دوسرا بد کار۔ جب بدکار مرنے لگا تو پرہیز گار بھائی نے کہا ، دیکھا تجھے میں نے بَہُت سمجھا یا مگرتُو اپنے گناہوں سے باز نہ آیا، اب بول تیرا کیا حال ہوگا؟ اُس نے جواب دیا کہ اگر قِیامت کے روز میرا ربّ عَزَّوَجَلَّمیرا فیصلہ میری ماں کے سِپُرد کر دے تو بتاؤ کہ ماں مجھے کہاں بھیجے گی دوزخ میں یا جنّت میں ؟پرہیز گار بھائی نے کہا کہ ماں تو واقعِی جنّت میں ہی بھیجے گی۔گنہگار نے جواب دیا: ’’میرا ربّعَزَّوَجَلَّ میری ماں سے بھی زیادہ مہربان ہے۔‘‘ یہ کہا اور انتِقال ہوگیا ۔ بڑے بھائی نے خواب میں اُسے نہایت خوشحال دیکھ کر مغفِرت کی وجہ پوچھی ،تو اس نے کہا: مرتے وَقت کی اُسی بات نے میرے تمام گناہ بخشوادیئے ۔
(تفسیرِ نَعِیمی پ۱، ۱/ ۳۳، تحت اٰیت التسمیۃ)
اللہ عَزَّوَجَلَّکی اُن پر رحمت ہو اور اُن کے صَدْقے ہماری بے حساب مغفرت ہو۔
ہم گنہگاروں پہ تیری مِہربانی چاہئے
سب گناہ دھل جائے گے رحمت کا پانی چاہئے
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّدٍ
(4)جا ہم نے تجھے بخش دیا
قِیامَتکے روزعَذاب کے فِرِشتے ایک بَندے کوپکڑلیں گے، حُکم ہو گا کہ اِس کے اَعضاء کودیکھ لواِس میں کوئی نیکی ہے یانہیں ؟چُنانچِہ، فِرِشتے تمام اَعضاء کودیکھ ڈالیں گے،کوئی نیکی نہیں ملے گی۔ پھرفِرِشتے اُس سے کہیں گے۔’’اب ذرا اَپنی زَبان باہَرنکالوکہ اُس میں دیکھ لیں کوئی نیکی ہے یانہیں ؟‘‘جب وہ زَبان نِکالے گاتواُس پرسَفَید خَط میں بِسْمِ اﷲِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْملِکھاہواپائیں گے۔ اُسی وَقت حُکم ہو گا: ’’جا! ہم نے تجھے بَخش دیا۔‘‘
(نُزھَۃُالْمجالس، فصل فی فضائل بسم اللہ الرحمن الرحیم، ۱/۳۸)