Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین
244 - 627
 قریب آؤ اور اپنی دیرینہ خواہش پوری کر لو ،مَیں حاضر ہو ں۔ عا بد اس کے قریب تخت پر جا بیٹھا۔ جب دونوں بد کاری کے لئے بالکل تیار ہوگئے تو عابِد کی عبادت کام آگئی ،اسے اللہ عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں حاضری کا دن یاد آگیا۔ اُس کی شَہوَت خَتم ہوگئی ، جسم پر کَپکَپی طاری ہوگئی،وہ اپنے اِس فعلِ بد کے اِرادے پر بہت شرمِندہ ہوا اور اس عورت سے کہا: میں اس گناہ سے با ز آیا،یہ سَو دینار بھی تم لے لو لیکن مجھے یہاں سے جانے دو۔
	عورت نے حیران ہوکر پوچھا: تمہیں کیا ہوا؟تم تو میرے لئے بہت بے چین تھے ؟عابِد نے کہا:اگر میں نے یہ گناہ کر لیا تو بروزِ قیامت اپنے ربّ کی ناراضی لے کر ا س کے سامنے کیسے حاضر ہوں گا؟ خوفِ الٰہی نے میرا دل تجھ سے اُچاٹ کر دیا ہے میں یہ گناہ کبھی نہیں کروں گا ،تم مجھے جانے دو۔ 
	یہ سن کر عورت بہت حیران ہوئی اورکہا: اگر تم اپنی بات میں سچے ہو تو مَیں بھی پُختہ ارادہ کر تی ہو ں کہ تمہارے علاوہ کوئی اور میرا شوہر ہر گز نہیں بن سکتا، مَیں تم ہی سے شادی کروں گی۔ عابِدنے کہا : جب تک میں یہاں سے چلا نہ جاؤں اس وقت تک میں شادی کے لئے تیار نہیں۔ عورت نے کہا: ٹھیک ہے ابھی تم چلے جاؤ لیکن میں تمہارے پاس آؤں گی اور تم ہی سے شادی کرو ں گی ۔ چنانچہ، وہ عابِد سر پر کپڑا ڈالے منہ چھپائے بہت شرمندہ ہو کر اپنے شہر کی طرف روانہ ہوگیا۔عابد کی باتیں عورت کے دل پر اَثر کر چکی تھیں۔ چنانچہ، وہ اپنے تمام سابِقہ گناہوں سے توبہ کر کے عابد کے گھر پہنچی۔ عابد نے اسے دیکھتے ہی ایک زور دار ،درد بھری چیخ ماری اور اس کی روح عالَمِ بالا کی طرف پرواز کر گئی۔ عورت کو اس کی موت کا بہت غم ہو ا۔پھر اس نے عابد کی مَحَبَّت میں اس کے ایک غریب ونادار بھائی سے شادی کر لی۔اللہ عَزَّوَجَلَّ نے انہیں سات بیٹے عطا فرمائے جو سب کے سب ولی بنے ۔
(عیون الحکایات، الحکایۃ الاربعون بعد المائۃ، ص۱۵۹)
بخش ہماری  ساری  خطائیں 				کھول دے  ہم پر  اپنی عطائیں
برسادے رحمت کی برکھا				یاااللہ !  میری  جھولی  بھردے