Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین
243 - 627
ایک قاصِد وہاں سے گزرا اس نے قصاب کو دیکھ کر کہا :تم کیوں پریشان ہو ؟اس نے کہا : مجھے سخت پیاس لگی ہے۔ قاصِدنے کہا: آؤ! ہم اللہ عَزَّوَجَلَّسے دعاکریں کہ وہ اپنی رَحمت کے بادل بھیجے اور ہمیں سیراب کرے یہاں تک کہ ہم اپنی بستی میں داخل ہوجائیں۔ قصَّاب نے کہا: میرے پاس تو کوئی ایسا نیک عمل نہیں جس کا وسیلہ دے کر دعا کرو ں ، آپ نیک بندے ہیں آپ ہی دعا فرمائیں۔ قاصِد نے کہا : مَیں دعا کر تا ہوں ، تم آمین کہنا، پھر قاصِد نے دعا شروع کی اور قصَّاب آمین کہتا رہا،یکایک بادل کے ایک ٹکڑے نے ان دونوں کو ڈھانپ لیا اور انکے ساتھ ساتھ چلنے لگا ۔ جب وہ دونوں جد اہوئے تو بادل قصَّاب کے ساتھ ساتھ رہا،قاصِد نے قصَّاب سے کہا : تم نے تو کہا تھا کہ میرے پاس کوئی نیکی نہیں ،لیکن میں دیکھ رہا ہوں کہ بادل تمہارے سر پر سایہ فگن ہے ، بتاؤ! کس عظیم نیکی سے تم پر یہ خاص کرم ہوا ہے ؟ قصَّاب نے اپنا واقعہ بتایا تو  قاصِد نے کہا : اللہعَزَّوَجَلَّ  کی بارگاہ میں گناہوں سے توبہ کرنے والوں کا جومقام و مرتبہ ہے وہ دوسرے لوگوں کا نہیں۔  				(عیون الحکایات، الحکایۃ الثانیۃ بعد المائۃ،ص۱۲۲)
اللہ عَزَّوَجَلَّکی اُن پر رحمت ہو اور اُن کے صَدْقے ہماری بے مغفرت ہو۔   
تیرے خوف سے تیرے ڈر سے ہمیشہ 			میں تھر تھر رہوں کانپتا یا الٰہی
(2)فاحشہ کی توبہ 
	حضرتِ سَیِّدُناحَسَن بَصری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں :ایک فاحِشہ عورت کے بارے میں مشہور تھاکہ اسے دنیا کا تہائی حُسن دیا گیاہے۔اُس کی بدکاری بھی اِنتہا کو پہنچ چکی تھی، جب تک سو (100) دینار نہ لے لیتی اپنے قریب کسی کو نہ آنے دیتی ۔لوگ اُس کے حُسن کی وجہ سے اِتنی بھاری رقم ادا کرکے بھی اس کے پاس جاتے۔ایک مرتبہ ایک عا بد کی اچانک اس پر نظر پڑی تووہ بھی اس کے فتنے میں مبتلا ہوگیا۔چنانچہ، دن رات مزدوری کر کے 100 دینار جمع کئے اور اس فاحشہ کے پاس پہنچ کر کہا : میں پہلی ہی نظر میں تیرا دیوانہ ہوگیا تھا،تیرا قُرب پانے کے لئے میں نے مزدوری کی اور اب100دینار لے کر تیرے پاس آیا ہوں۔ وہ سونے کے تخت پر بیٹھی ہوئی تھی اس نے کہا :میرے