کتنے ہی بڑے کیوں نہ ہوں لیکن اللہعَزَّوَجَلَّ کی رَحمت سے بڑے نہیں ، ایک ناحق قتل پوری انسانیت کے قتل کی طرح ہے تو اندازہ لگائیے کہ 100بندوں کے قتل کا گناہ کتنا سنگین ہوگا۔ لیکن جب ایسا قاتل بھی سچے دل سے توبہ کرتا ہے تو رَحمت ِخداوَندی اُسے اپنی آغوش میں لے لیتی ہے۔ اس کی رَحمت کا دریا ہردم موجزن ہے، دریائے رَحمتِ الٰہی کے ایک قطرے سے ہم جیسے گناہ گاروں کا کام بن جائے گا ۔اللہعَزَّوَجَلَّ ہم سب کوہر آن اپنی رَحمت میں رکھے !
اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
رحمت دا دریا الٰہی ہر دم وگدا تیرا جے اک قطرہ بخشے مینوں کم بن جاوے میر ا
’’رَحْمَت‘‘کے4حروف کی نسبت سے رَحمتِ الٰہی پر مشتمل 4 ایمان افروز واقعات
(1)قصَّاب کی توبہ
حضرتِ سَیِّدُنابکر بن عبدُ اللہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں : بنی اسرائیل کا ایک قصَّاب اپنے پڑوسی کی لونڈی پر عا شِق ہوگیا۔ ایک دن لونڈی اپنے مالک کے کسی کام سے دوسرے گاؤں جارہی تھی ،قصَّاب نے اس کا پیچھاکیا اور جنگل میں ایک جگہ روک کر گناہ پر آمادہ کرنے لگا۔یہ دیکھ کر سمجھدار وباحیا لونڈی نے کہا :اے نوجوان تُو اس گناہ میں نہ پڑ ،جتنی تُومجھ سے مَحَبَّت کرتا ہے اس سے کہیں زیادہ میں تیری مَحَبَّت میں گر فتار ہوں لیکن مجھے اپنے مالک حقیقی عَزَّوَجَلّکا خوف اس گناہ کے اِرتکاب سے روک رہا ہے ۔اُس نیک سیرت اور خوفِ خدا رکھنے والی لونڈی کی زبان سے نکلے ہوئے یہ الفاظ تاثیر کا تیربن کر قصَّاب کے دل میں پَیوَست ہوگئے اور اُس نے کہا:جب تجھے اللہ عَزَّوَجَلَّ کا اتنا خوف ہے تو مَیں اپنے پاک پرور دگار عَزَّوَجَلَّ سے کیوں نہ ڈروں ، مَیں بھی تو اُسی مالک عَزَّوَجَلَّ کا بندہ ہوں ، جا!تو بے خوف ہو کر چلی جا۔چنانچہ، وہ لونڈی چلی گئی۔ قصاب نے اپنے گناہوں سے سچّی تو بہ کی اور واپس پلٹ گیا۔ راستے میں اسے شدید پیاس محسو س ہوئی لیکن اس ویران جنگل میں کہیں پانی کا دور دور تک کو ئی نام ونشان نہ تھا قریب تھا کہ گرمی اور پیاس کی شِدَّت سے اس کا دَم نکل جاتا، اتنے میں اس زمانے کے نبی عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکا