Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین
241 - 627
: دیکھ تیرے سامنے کیا ہے ؟ وہ عرض کرے گا:اے پروَردگارعَزَّوَجَلَّ!میں اپنے سامنے سونے کے بڑے شہر اور بڑے بڑے مَحلَّات دیکھ رہا ہوں جوموتیوں سے آراستہ ہیں یہ شہر اور عُمدہ مَحلَّات کس پیغمبر یا صِدّیق یا شہید کے لئے ہیں ؟ اللہعَزَّوَجَلَّ فرمائے گا:یہ اُس کے لئے ہیں جواِن کی قیمت ادا کرے۔ بندہ عرض کرے گا:اِن کی قیمت کون ادا کرسکتا ہے؟ اللہعَزَّوَجَلَّ فرمائے گا :تُو ادا کر سکتا ہے ۔ وہ عرض کرے گا :کس طر ح ؟ اللہعَزَّوَجَلَّ فرمائے گا:اِس طرح کہ تُواپنے بھائی کے حُقُوق مُعاف کردے۔ بندہ عرض کرے گا:یااللہعَزَّوَجَل!َّ میں نے سب حُقُوق مُعاف کئے۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ فرمائے گا :اپنے بھائی کا ہاتھ پکڑاور دو نوں اِکٹھّے جنَّت میں چلے جاؤ۔ پھر سرکار ِنامدار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا: اللہعَزَّوَجَلَّ سے ڈرو اور مخلوق میں صُلح کرواؤ کیونکہ اللہعَزَّوَجَلَّ  بھی برو زِ قِیامت مسلمانوں میں صُلح کروائے گا۔    (مستدرک حاکم،کتاب الاھوال باب اذا لم یبق من الحسنات…۵/۷۹۵،حدیث:۸۷۵۸)
	سوال:قراٰن کریم میں ہے:وَمَا نَتَنَزَّلُ اِلَّا بِاَمْرِ رَبِّکَ(پ۱۶،مریم:۶۴)(ترجمۂ کنز الایمان: ہم فرشتے نہیں اترتے مگر حضور کے ربّ کے حکم سے) معلوم ہوا کہ فرشتے تو خدا کے حکم سے آتے ہیں یہاں عذاب و رحمت کے فرشتے کیسے آئے ؟
	جواب : فرشتوں کے لئے ربّ تعالیٰ کی طرف سے قانون مقرر کردیا گیا ہے، کہ کس میت کو عذاب کے فرشتے لیں اور کس کو رَحمت کے۔ وہ اِسی قانون کے تحت ہر میت تک پہنچ جاتے ہیں ،یہاں بھی ایسا ہی ہوا ۔کیونکہ وہ سو (100)قتل کرکے آیا تھا اس لئے عذاب کے فرشتے آئے۔ لیکن وہ تائب ہوگیا تھا اس لئے رَحمت کے فرشتے آئے۔دونوں قسم کے فرشتے مقررہ قانون کے مطابق ہی آئے تھے، لہٰذا یہ حدیث آیتِ مذکورہ کے خلاف نہیں۔
( مراٰۃ المناجیح ، ۳ /۳۵۷ )
	اللہعَزَّوَجَلَّ کی رَحمت بہت بڑی ہے ،وہ کریم پروَردگارعَزَّوَجَلَّ بڑے بڑے گناہوں کو لمحہ بھر میں معاف فرما دیتا ہے۔ جو اپنے گناہوں پر نادِم ہوکر سچّی توبہ کرے تو کوئی وجہ نہیں کہ اس کی توبہ قُبول نہ ہو۔ انسان کے گناہ چاہے