حدیث ِ مذکور سے متعلق سوال،جواب
سوال :قتلِ ناحق میں وُرَثاء کے حقوق تَلَف ہوتے ہیں اور حُقوق العباد کی معافی کے لئے بندوں سے معافی ضروری ہے ،مذکورہ شخص مقتولین کے ورثاء سے اپنے حُقوق معاف کرائے بغیر ہی فوت ہوگیا تھا پھر اس کی بخشش کیسے ہوگئی ؟
جواب:جب اللہعَزَّوَجَلَّ اپنے بندے سے راضی ہوجائے تو اپنے حقوق بھی معاف فرما دیتا اور بندوں کے حُقوق حق والوں سے معاف کرادیتا ہے۔اِس موقعہ پر بھی ربّ تعالیٰ اُس سے راضی ہوگیااب مَقْتُولِیْن اوراُن کے وُرَثاء کو ربّ کریم اپنی بے شمار نعمتیں عطا فرماکر اُن سے اُن کے حقوق معاف کر والے گا۔(مراٰۃ المناجیح، ۳/ ۳۵۶۔۳۵۸)
اس ضِمن میں ایک رَحمت بھری روایت ملاحظہ فرمائیے:
اللہ عَزَّوَجَلَّ صلح کروائے گا
حضرتِ سَیِّدُنا اَنَس بن مالِک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں :ایک رو ز سرکارِ دو عالَم ، نُورِ مُجَسَّم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم تشریف فرماتھے۔آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے تبَسُّم فرمایا توامیرُالْمُؤمِنِیْنحضرتِ سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے عرض کی:یارسولَ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! آپ پرمیرے ماں باپ قربان! آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے کس لئے تَبَسُّم فرمایا:ارشاد ہوا:میرے دو اُمَّتی اللہعَزَّوَجَلَّ کی بار گاہ میں دو زانوگر پڑیں گے ، ایک عرض کر ے گا :یااللہعَزَّوَجَلَّ!اِس سے میر اانصاف دِلا کہ اِس نے مجھ پر ظلم کیا تھا ۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ مُدَّعی(یعنی دعویٰ کرنے والے)سے فرمائے گا :اب یہ بے چا رہ(یعنی جس پر دعویٰ کیا گیا ہے وہ)کیا کرے اِس کے پاس تو کوئی نیکی باقی نہیں۔ مظلوم(یعنی مُدَّعی)عرض کر ے گا:میرے گناہ اس کے ذِمّے ڈال د ے۔اتنا اِرشاد فرما کر سرورِ کائنات،شاہِ موجُودات صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمرو دئیے اورفرمایا : وہ دن بَہُت عظیم دن ہوگا کیونکہ اُس وقت (یعنی بروز قیامت )ہر ایک اس بات کا ضَرورت مند ہوگا کہ اس کا بو جھ ہلکا ہو ۔ اللہعَزَّوَجَلَّ مظلوم (یعنی مُدَّعی)سے فرمائے گا