Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین
239 - 627
بھی بخشش سے مایوس نہ کیا ، پھانسی والے مجرم کو تمام قیدیوں سے الگ کال کوٹھڑی( قیدِ تنہائی)  میں ر کھا جاتاہے کیونکہ ہو سکتا ہے وہ اپنی زندگی سے مایوس ہو کر دوچار اور کو قتل کردے ۔ بہر حال پھر وہ ایک عالم کے پاس گیا تو اس نے کہا کہ تمہاری توبہ کیوں قُبول نہ ہوگی اللہعَزَّوَجَلَّ ہر تائب کی توبہ قُبول فرماتا ہے ۔ فلاں بستی میں اللہعَزَّوَجَلَّ کے بہت سے نیک بندے رہتے ہیں تُو وہاں جا کر اللہعَزَّوَجَلَّ کی عبادت میں مصروف ہو جا!چنانچہ، وہ اولیائے کرام رَحِمَھُمُ اللہُ السَّلَامکی بستی کی طرف چل دیا۔راستے میں اس کی موت واقع ہوئی مرنے سے پہلے اس نے اپنا چہرہ اور سینہ اولیائے کرام رَحِمَھُمُ اللہُ السَّلَامکی بستی کی طرف اور پیٹھ اُس گناہوں کی بستی کی طرف کر لی جہاں سے آرہا تھا۔ اللہعَزَّوَجَلَّ کو اُس کی یہ ادا  پسند آگئی ۔ اس کی روح لینے رَحمت اور عذاب کے فرشتے بھی آگئے ، عذاب والے فرشتے کہتے تھے کہ یہ ہمارا ہے، بڑے گناہ کرکے آیا تھا۔ رَحمت والے فرشتے کہتے تھے کہ یہ ہمارا ہے توبہ کرنے جارہا تھا۔ اللہعَزَّوَجَلَّ نے ایک فرشتہ انسانی شکل میں بھیجا اس نے فیصلہ کیا کہ دونوں بستیوں کا فاصلہ پیمائش کر لو جس سے یہ قریب ہو گا اسی میں شمار ہوگا ۔اس کی موت اگرچہ دونوں بستیوں کے بالکل درمیان میں واقع ہوئی تھی، لیکن ربّ تعالیٰ نے ارادۂ توبہ کی وجہ سے اُس کا اتنا اِحترام فرمایا کہ اُس کی لاش کو اُس بستی کی طرف نہ سرکایا بلکہ دونوں بستیوں کو حرکت دی کہ اِس کو پیچھے ہٹایا اُس کو آگے بڑھایا۔چنانچہ اولیائے کرام رحِمَھُمُ اللہُ السَّلَام کی بستی کا فاصلہ کم ہوگیا تھا اور اس کی روح کو رَحمت کے فرشتے لے گئے ۔ 								 (مراٰۃ المناجیح، ۳/ ۳۵۶۔۳۵۸)
  اولیائے کرام رَحِمَھُمُ اللہُ السَّلَامکی بستی
	حضرتِ سَیِّدُناعبداللہ بن عَمرو بن العاص رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے کہ جس بستی کی طرف وہ جارہا تھا اس کا نام نَصْرَہ تھا اور جہاں سے چلا تھا س کا نام کُفَرَہ تھا۔(معجم کبیر، ۱۳/۲۴، حدیث۷۶) اِمام ابُواللَّیْث سَمَرقَنْدِی  عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی نے ’’تَنْبِیْہُ الْغَافِلِیْن‘‘ میں بھی ان بستیوں کے نام ذکر کئے ہیں۔ ( تنبیہ الغافلین،باب ما یرجی من رحمۃ اللہ تعالی، ص۴۴، حدیث:۸۱)