Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین
238 - 627
Rبات کی طرف اشارہ ہے کہ مومن کی نیت اس کے عمل سے بہتر ہے ،نیز اس حدیث سے معلوم ہوا کہ توبہ کرنے والے کے لئے اللہ عَزَّوَجَلَّ کی رحمت بہت وسیع ہے ۔ علامہطِیْبِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں کہ’’ جب اللہ عَزَّوَجَلَّ کسی بندے سے راضی ہوتا ہے تو اس سے سب کو راضی کر دیتا ہے ، اس حدیث میں توبہ کی ترغیب اور نا امیدی سے ممانعت ہے ۔‘‘ 				(مرقاۃ المفاتیح ، کتاب الدعوات باب الاستغفار، ۵/۱۶۰، تحت الحدیث۲۳۲۷)
صالحین کی صحبت سے توبہ پختہ ہوتی ہے
	علامہ اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰ بِنْ شَرَف نَوَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی شرح مسلم میں فرماتے ہیں :اس حدیثِ پاک سے معلوم ہوا کہ توبہ کرنے والے کے لئے مستحب ہے کہ برائی پر ابھارنے والے دوستوں کے سُدھرنے  تک ان سے قطع تعلق رکھے ،گناہوں کی جگہ کو چھوڑ دے اورعلما وصالحین اور دینی پیشواؤں کی صحبت بابرکت اختیار کرکے اپنی توبہ کو پختہ کرے ۔ (شرح مسلم للنووی،کتاب التوبۃ، باب قبول توبۃ القاتل وان کثر، ۹/ ۸۳، الجزء السابع عشر)
ر حمت ِخداوندی نے دستگیری کی
	مُفَسِّر شہِیرحَکِیْمُ الْاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان نے اس حدیثِ پاک کی جو شرح بیان کی اس کا خلاصہ بیان کیا جاتا ہے:’’ اس شخص نے ظلماً ،ڈکیتی سے یا کسی اور طرح سے ناحق سو(100)قتل کئے ،جب اس کی موت کا وقت قریب آیا تو ر حمت ِخداوندی نے دستگیری کی،اپنے کئے پر پشیمان ہوا ، اپنے گناہوں والے علاقے سے نکل کر توبہ کی قُبولیت سے متعلق مسئلہ پوچھنے ایک راہب کے پاس گیا، راہب نے مسئلہ غلط بتاتے ہوئے کہہ دیا کہ تمہاری توبہ قُبول نہیں ہوسکتی،وہ راہب یا تو توبہ کے مسئلے سے جاہل تھا یا اس کا مطلب یہ تھا کہ قتل حقُّ العباد ہے، مَقتُول کے وُرَثاء سے اس میں معافی مانگنا ضروری ہے، اتنے سارے مَقتُولوں کے وارثوں کے پاس یہ کیسے پہنچے گا اور انہیں کیسے راضی کرے گا، لہٰذا اس کی توبہ قُبول نہیں ہوسکتی۔ راہب کا جواب سن کر بخشش سے مایوسی کی وجہ سے وہ گناہ پر دلیر ہوگیا،اور اس نے راہب کو بھی قتل کر دیا۔ مایُوس بلی کتے پر حملہ کردیتی ہے ،اِسی لئے اِسلام نے بڑے سے بڑے مجرم کو