Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین
237 - 627
عَزَّوَجَلَّ کا فرمانِ مغفرت نشان ہے:
اِنَّ اللہَ لَا یَغْفِرُ اَنْ یُّشْرَکَ بِہٖ وَیَغْفِرُ مَا دُوْنَ ذٰلِکَ لِمَنْ یَّشَاءُ (پ۵، النسائ: ۴۸)
ترجمۂ کنز الایمان :بے شک اللہ اسے نہیں بخشتا کہ اسکے ساتھ کفر کیا جائے اور کفر کے نیچے جو کچھ ہے جسے چاہے معاف فرمادیتا ہے ۔
	
پس شرک کے علاوہ بقیہ گناہ معاف ہو سکتے ہیں۔ اور
وَمَنْ یَّقْتُلْ مُؤْمِنًا مُّتَعَمِّدًا فَجَزَاؤُہٗ جَہَنَّمُ (پ۵، النسائ:۹۳)  ترجمۂ کنز الایمان :اور جو کوئی مسلمان کو جان بوجھ کر قتل کرے تو اس کا بدلہ جہنم ہے 
	اس آیت کا معنی یہ ہے کہ اس کی سزا تو یہی ہے کہ اسے جہنم میں ڈالا جائے لیکن کبھی اسے معاف کردیا جاتا ہے اور جو  مسلمان کے قتلِ ناحق کو حلال جانے اور اس کے پاس کوئی تاویل بھی نہ ہو تو پھر وہ کافر ہے اور ہمیشہ جہنم میں رہے گا۔   اس حدیثِ پاک سے پتہ چلا کہ عالم عابد سے افضل ہے کیونکہ پہلے شخص (راہب) نے اسے یہ فتویٰ دیا کہ اس کی توبہ قبول نہیں ہوسکتی ، اس راہب پر عبادت غالب تھی اس لئے اس نے اتنے سارے لوگوں کے قتل پر جرأت کرنے کو  ناقابلِ معافی گناہ گمان کیا، جب کہ دوسرے شخص (عالم) پر علم کا غَلَبہ تھا اس نے صحیح مسئلہ بتایا اور اسے نجات کا راستہ دکھایا ۔  (عمدۃ القاری، کتاب احادیث الانبیاء باب حدیث الغار، ۱۱/۲۲۵، تحت الحدیث:۳۴۷۰)
ربّ راضی تو سب راضی 
	عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْبَارِی مرقاۃ شرحِ مِشْکٰوۃ میں فرماتے ہیں : اللہ عَزَّوَجَلَّ نے اس زمین کو حکم دیا جس کی طرف قاتل نے جانے کا ارادہ کیا تھا کہ اس کے قریب ہو جااور جس زمین سے اس نے ہجرت کی تھی اسے حکم دیا کہ اس سے دور ہو جا ، پھر اللہ عَزَّوَجَلَّ نے فرشتوں کو حکم دیا کہ اب زمین کی پیمائش کرو اور یہ میت جن لوگوں کی زمین کے قریب ہو اِسے انہیں میں شمار کیا جائے گا، پس جب پیمائش کی گئی تو میت نیک لوگوں کی بستی سے ایک بالشت قریب تھی پس اس کی مغفرت کر دی گئی ، یہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کا فضل ہے ۔ اس حدیث پاک میں اس