Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین
236 - 627
قُبول ہوگی؟اس نے کہا:’’نہیں۔‘ ‘قاتل نے اسے بھی قتل کرکے سو(100)کی تعداد پوری کر دی۔پھر روئے زمین کے سب سے بڑے عالِم کے متعلق پوچھا ، تو اسے ایک عالِم کا پتہ بتایا گیا، یہ اس کے پاس پہنچا اور کہا کہ میں نے سو(100) قتل کئے ہیں کیا میری توبہ قُبول ہو سکتی ہے؟عالِم نے کہا:ہاں ! تمہارے اور توبہ کے درمیان کون رُکاوٹ بن سکتا ہے !جاؤ،فلاں ،فلاں جگہ چلے جاؤ وہاں کچھ لوگ اللہعَزَّوَجَلَّ کی عبادت کر رہے ہیں ،تم اُن کے ساتھ اللہعَزَّوَجَلَّ کی عبادت کرواور اپنے علاقے کی طرف نہ جاناکیونکہ وہ بُری جگہ ہے ۔ چنانچہ، وہ قاتل،عالم کے بتائے ہوئے علاقے کی جانب روانہ ہو گیا۔جب وہ آدھے راستہ پر پہنچا تو اسے موت نے آلیا، اور اس کے متعلق رحمت اور عذاب کے فرشتوں میں اِختِلاف ہو گیا،رحمت کے فرشتوں نے کہا،یہ شخص توبہ کرتاہوا،دل سے اللہ عَزَّوَجَلَّ کی طرف متوجہ ہوتا ہوا آیا تھااورعذاب کے فرشتوں نے کہا : اس نے کوئی نیک عمل نہیں کیا، پھر ان کے پاس ایک فرشتہ آدمی کی صورت میں آیا، اُنہوں نے اس کواپنے درمیان فیصلہ کرنے والا بنالیا،تو اس نے کہا :’’ دونو ں زمینوں کی پیمائش کرو،یہ شخص (یعنی قاتل) جس زمین کے زیادہ قریب ہو اسی کے مطابق اس کا فیصلہ ہوگا ،جب فرشتوں نے پیمائش کی تووہ اس زمین کے زیادہ قریب تھا جہاں اس نے جانے کا ارادہ کیا تھا۔ چنانچہ، رَحمت کے فرشتوں نے اُسے لے لیا ۔ مسلم شریف کی روایت میں ہے کہ وہ شخص ایک بالِشت نیک لوگوں کی بستی کے قریب تھا۔ تو اُسے انہیں میں کردیا گیا ۔ اور صحیح بخاری کی روایت میں ہے کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ نے اُس زمین کی طرف وحی فرمائی کہ دور ہو جا! اور اِس زمین سے فرمایا کہ قریب ہو جا! پھر اس فرشتے نے کہا : دونوں زمینوں کی پیمائش کرو !( جب پیمائش کی گئی) تو وہ نیک لوگوں کی بستی کے ایک بالِشت قریب پایا گیا تو اُسے بخش دیا گیا۔ ایک روایت میں ہے کہ اُس نے اپنا سینہ نیک لوگوں کی بستی کی طرف کردیا تھا۔
    قاتل کی توبہ بھی قبول ہے 
	علامہ بَدْرُالدِّیْنعَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الغَنِی عمدۃ القاری شرح بخاری میں فرماتے ہیں :’’حدیث سے معلوم ہوا کہ تمام کبیرہ گناہوں سے توبہ کرنا مشروع ہے حتی کہ کسی کو قتل کردیا تو اس سے بھی توبہ کرنا ضروری ہے ، قاضی نے فرمایا کہ اہلسنت کا مذہب یہ ہے کہ جس طرح توبہ تمام گناہوں کو مٹا دیتی ہے اسی طرح قتل کو بھی مٹا دیتی ہے اور جو بعض روایات توبہ نہ قبول ہونے کے بارے میں مروی ہیں وہ اس لئے ہیں تاکہ لوگ قتلِ ناحق پرجرأت نہ کریں۔ اللہ