Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین
232 - 627
عَلَیْھِمْ اَجْمَعِیْنسے مَحَبَّت کرے وہ قیامت کے دن میرے ساتھ ہوگا۔
(ترمذی،کتاب المناقب، باب مناقب علی رضی اللہ عنہ، ۵/۴۱۰، حدیث:۳۷۵۴)
(4) ایک شخص بارگاہِ رِسالت مآب میں حاضر ہو کر عرض گزار ہوا : یَا رَسُوْلَ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! آپ میرے نزدیک اہل و مال سے زیادہ پیارے ہیں اور میں آپ کو دل میں یاد رکھتا ہوں ، جب تک میں اپنی آنکھوں سے آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی زِیارت نہیں کرلیتا مجھے صبر و قرار نہیں آتا اور جب میں اپنی موت اور آپ کی جدائی کو یاد کرتا ہوں ،تو میں سوچتا ہوں کہ آپ جنت میں نبیوں کے ساتھ بلند وبالا مقام پر ہوں گے اگر میں جنت میں داخل ہوا تو آپ کی زیارت نہ کرسکوں گا۔ (پھر سکون کیسے ملے گا ؟) اس موقع پر یہ آیت طیبہ نازل ہوئی :
وَمَنْ یُّطِعِ اللہَ وَالرَّسُوْلَ فَاُولٰٓئِکَ مَعَ الَّذِیْن  اَنْعَمَ اللہُ عَلَیْہِمْ مِّنَ النَّبِیّٖنَ وَالصِّدِّیْقِیْنَ والشُّھَدَائِ وَالصّٰلِحِیْنَ  وَحَسُنَ اُولٰٓئِکَ رَفِیْقًا۔(پ۵، النسآئ:۶۹)
ترجمۂ کنزالایمان:اور جواللہ  اور اس کے رسول کا حکم مانے تو اُسے ان کا ساتھ ملے گا جن پراللہ نے فضل کیا یعنی انبیاء اور صدیق اور شہید اور نیک لوگ یہ کیا ہی اچھے ساتھی ہیں۔
	آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اپنے اس پیارے صحابی کو بُلایا اوراسے یہ آیت ِمبارکہ پڑھ کر سنائی۔
(شعب الإیمان، باب فی حب النبی صلی اللہ علیہ وسلم، ۲/۱۳۱، حدیث:۱۳۸۰)
(5)دوسری روایت میں ہے کہ ایک شخص بارگاہِ رسالت میں حاضر ہوااورنظر بچا کر آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو دیکھنے لگا اور کسی طرف متوجہ نہ ہوا، تو آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا : کیا حال ہے؟ عرض کی : میرے ماں باپ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمپر قربان! آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی طرف نظر کرنے سے مجھے دِلی سکون ملتا ہے ۔بروزِ قیامت جب اللہ عَزَّوَجَلَّ  آپ کو بلند مرتبہ عطا فرمائے گا(تو اس وقت میرا کیا حال ہوگا میں تو آپ کی زیارت سے محروم ہو جاؤں گا ؟) اس پرمذکورہ آیتِ مبارکہ نازل ہوئی۔	 (الشفا بتعریف حقوق المصطفی، ۲/۲۰)