Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین
231 - 627
نافرمانیوں میں مبتلا رہا ۔ایک دن آئینے میں داڑھی کے سفید بال دیکھ کر اپنی نافرمانیوں پر نادم ہو ااور بارگاہِ خداوندی میں عرض گزار ہوا :’’ یااللہ عَزَّوَجَلَّ میں نے 20سال تک تیر ی عبادت کی پھر 20سال تیری نافرمانی کی اگر میں تیری طرف رجوع کروں تَو تُو میری توبہ قُبول کرلے گا ؟‘‘تو اس نے یہ غیبی آواز سنی :’’ تُو نے ہم سے دوستی کی تَو ہم نے بھی تجھ سے مَحَبَّت کی، تو نے ہمیں چھوڑا تَو ہم نے بھی تجھے چھوڑ دیا، تونے ہماری نافرمانی کی توہم نے تجھے مہلت دی اب اگر تو ہماری طرف رُجوع کرے گا تو ہم تجھے قُبول کریں گے۔ ‘‘
(العقد الفرید لابن عبد ربہ الأندلسی، کتاب الزمردۃ فی المواعظ والزہد، ۳/۱۳۰۔ احیاء العلوم، ۴/۱۹)
’’چل مد ینہ‘‘ کے 7حروف کی نسبت سے صالحین سے مَحَبَّت کی فضیلت پر مشتمل7روایات  
(1)حضرتِ سَیِّدُنا اَنَسَرضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی کہ ایک شخص نے نبیِّ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی بارگاہ میں حاضر ہوکر عرض کی : یَارَسُوْلَ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! قیامت کب آئے گی ؟ فرمایا: تو نے اس کے لئے کیا تیاری کی ہے؟ عرض کی: میرے پاس ( نفلی) نمازوروزہ وصدقات کی کثرت تو نہیں مگر میں اللہ عَزَّوَجَلَّ  او راس کے رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو سب سے زیادہ محبوب رکھتا ہوں۔ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا: تو اس کے ساتھ ہے، جس کو تو محبوب رکھتا ہے۔ (بخاری،کتاب الادب،باب علامۃحب اللہ ، ۴/۱۴۷، حدیث:۶۱۷۱)
(2)حضرتِ سَیِّدُنا صَفْوَان بِن قُدَامَہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُُسے مروی ہے کہ نبیِّ کریم، رء وف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا : اَلْمَرْئُ مَعَ مَنْ اَحَبَّ  یعنی بندہ جس سے محبت رکھتا ہے اسی کے ساتھ ہوتا ہے۔ (ترمذی،کتاب الزھد، باب ماجاء ان المرء مع من احب، ۴/۱۷۲، حدیث:۲۳۹۳) 
(3)اَمیرُالْمُؤمِنِیْنحضرتِ سَیِّدُنامولائے کائنات،علیُّ الْمُرْتَضٰیشیرِخُداکَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمسے مروی ہے کہ نبیِّ کریمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا : جوحَسَن و حُسین اور ان کے والد ووالدہ رِضْوَانُ اللہِ تَعَالٰی