کئے جائیں گے ایک گناہ سامنے آئیگا تو وہ کہے گا ’’میں اِسی سے ڈرتا تھا ‘‘ پس اسی بات پر اسے بخش دیا جائے گا ۔‘‘
(الزہد لابن المبارک، باب فضل ذکر اللہ، ص۴۷۹، حدیث:۱۳۶۲)
(6) پلک جھپکنے سے پہلے توبہ قُبول
حضرتِ سَیِّدُنا عَبْدُاللہ بن سلام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے فرمایا:’’ میں تم سے جو بات بھی بیان کروں گا وہ کسی بھیجے ہوئے نبی یا اتاری گئی کتاب سے بیان کروں گا، بے شک! بندہ جب گناہ کا مُرْتَکِب ہوتا ہے پھر پلک جھپکنے کے برابر بھی نادم ہو تو پلک جھپکنے سے بھی جلدی وہ گناہ زائل ہوجاتا ہے۔‘‘ (احیاء العلوم، ۴/۱۸)
(7) توبہ کرنے والوں کے دل نرم ہوتے ہیں
امیرُالْمُؤمِنِیْنحضرتِ سَیِّدُناِعمر فاروق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے فرمایا :’’توبہ کرنے والوں کے پاس بیٹھا کرو کیونکہ اُن کے دل بہت نرم ہو تے ہیں۔‘‘ (الزہد لابن مبارک، باب ما جاء فی الحزن والبکائ، ص۴۲، حدیث:۱۳۲)
(8) صبح شام توبہ
حضرتِ سَیِّدُنا طَلْق بِن حَبِیْب عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ المُجِیْب فرماتے ہیں : اللہ عَزَّوَجَلَّکے حقوق اِتنے ہیں کہ بندہ انہیں ادا نہیں کرسکتا لیکن صبح شام توبہ کیا کرو۔ (الزہد لابن مبارک،باب الھرب من الخطایا والذنوب، ص۱۰۱، حدیث:۳۰۲)
(9) توبہ سے محرومی
ایک بزرگ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں : مجھے مغفرت سے محرومی کا اتنا خوف نہیں جتنا توبہ کی محرومی سے ڈرتا ہوں۔(کیونکہ مغفرت توتوبہ کے لوازِمات اوراس کے پیچھے آنے والی شے ہے)
(قوت القلوب، ۱/۳۰۵۔ احیاء العلوم، ۴/۱۸)
(10)بیس سال بعد توبہ
منقول ہے کہ بنی اسرائیل کے ایک نوجوان نے بیس سال تک اللہ عَزَّوَجَلَّکی عبادت کی پھر اتناہی عرصہ