’’توبہ ‘‘سے متعلق بزرگانِ دین رَحِمَھُمُ اللہُ الْمُبِیْن کے چند اقوال ملاحظہ فرمائیے :
(1) باربار گناہ بار بار توبہ
فَاِنَّہٗ کَانَ لِلْاَوّٰبِیْنَ غَفُوْرًا (پ۱۵،بنی اسرائیل:۲۵) ترجمۂ کنز الایمان:تَو بے شک وہ توبہ کرنے والوں کو بخشنے والا ہے
حضرتِ سَیِّدُنا سَعِید بِن مُسَیَّب رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں :یہ فرمانِ باری تعالیٰ اس شخص کے بارے میں ہے جوگناہ کرتا ہے پھر توبہ کرتا ہے۔ (الزہد لابن المبارک، باب فضل ذکر اللہ، ص۳۸۶ ، حدیث:۱۰۹۳۔۱۰۹۴)
(2)توبہ کرنے والے گناہ گاروں کے لئے خوشخبری
حضرتِ سَیِّدُنا فُضَیْل رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں :’’ اللہ عَزَّوَجَلَّ نے فرمایا ،گناہ گاروں کو ( اس بات کی ) خوشخبری دیجئے کہ اگر وہ توبہ کریں گے تو اُن سے قُبول کی جائے گی اور صِدِّیقین کو اس بات سے ڈرائیے کہ اگر میں نے عدل سے کام لیا تو اُن کو عذاب دوں گا۔‘‘ (احیاء العلوم، ۴/۱۸)
(3)گناہوں پر نَدامت کی بَرَکت
حضرتِ سَیِّدُناعَبْدُاللہ بن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا فرماتے ہیں :’’ جو شخص اپنے گناہ کو یاد کرے اور اپنے دل کو اس گناہ سے پاک کر لے تو نامۂ اعمال سے بھی وہ گناہ مٹ جاتا ہے۔‘‘ (احیاء العلوم،۴/۱۸)
(4) شیطان افسوس کرے گا
بعض بزرگ فرماتے ہیں کہ’’ بندہ گناہ کرکے اُس پر مسلسل نادِم رہتا ہے حتی کہ جنت میں داخل ہوجاتا ہے، شیطان کہتا ہے افسوس ! کاش میں اسے گناہ میں مبتلا نہ کرتا۔‘‘ (احیاء العلوم، ۴/۱۸)
(5)میں اِسی سے ڈرتا تھا
حضرتِ سَیِّدُنا عُروہ بن عامر رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِفرماتے ہیں :’’ قیامت کے دن آدمی کے گناہ اس کے سامنے پیش