ضرور ہے اور اسے امام بنانا اور اس کے پیچھے نماز پڑھنا مکروہ تحریمی قریب بحرام کہ پڑھنی گناہ اور پھیرنی واجب اور مَعَاذَاللہ بالآخر اس پر اندیشہ کفر ہے۔ امام جلال الدین سیوطی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی شرح الصدور میں فرماتے ہیں : ایک شخص رافضیوں کے پاس بیٹھا کرتا تھا اس کے مرتے وقت لوگوں نے اسے کلمہ طیبہ کی تلقین کی، اس نے کہا: نہیں کہا جاتا۔ پوچھا: کیوں ؟ کہا یہ دو شخص کھڑے ہیں یہ کہتے ہیں تو ان کے پاس بیٹھا کرتا تھا جو ابوبکر و عمر (رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا) کو برا کہتے تھے اب چاہتاہے کہ کلمہ پڑھ کر اٹھے، نہ پڑھنے دیں گے۔‘‘
جب صدیق اکبر وفاروق اعظم (رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا) کو برا کہنے والوں کے پاس بیٹھنے والوں کی یہ حالت ہے تو یہ لوگ تو اللہ جَلَّ وَعَلا اور رَسُوْلُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو بر ا کہتے ہیں ان کی تنقیصِ شان کرتے ہیں انھیں طرح طرح کے عیب لگاتے ہیں اُن کے پاس بیٹھنے والے کو کلمہ نصیب ہونا اور بھی دشوار ہے ۔نَسْأَلُ اللہَ الْعَفْوَ وَالْعَافِیَۃَ (ہم اللہ عَزَّوَجَلَّ سے معافی اور عافیت چاہتے ہیں۔ )(فتاوی رضویہ، ۲۱/ ۲۷۸)
توبہ کا دروازہ
حدیث پاک میں ’’توبہ کے دروازے‘‘ کا بیان ہوا جو اس وقت تک کھلا رہے گا جب تک کہ سورج مغرب سے طلوع نہ ہوجائے یہ اللہعَزَّوَجَلَّ کا بہت بڑا کرم واِحسان ہے کہ اس نے اپنے بندوں کو توبہ جیسی عظیم نعمت عطا فرمائی ۔وہ اپنے بندوں کو مہلت دیتا ہے اس کے ہاں کرم ہی کرم ہے۔غور کیجئے جو خد ائے بزُرْگ وبَرتر عَزَّوَجَلَّ دن رات ہم پر اپنے انعامات کی بارش بر ساتا ہے اور جس نے ہمارے لئے توبہ کا دروازہ قیامت تک کھول رکھا ہے اس کی نافرمانی کسی طرح بھی دُرُست نہیں۔اگر انسان شیطان کے بہکاوے میں کوئی گناہ کر بیٹھے تو اسے فوراً توبہ کر لینی چاہیے اگرچہ کتنی ہی بار گناہ ہو ہر بار اگر سچّی توبہ کرلی جائے تو ہمارا کریم پَر وَرد گار عَزَّوَجَلَّ ہماری توبہ ضرور قُبول فرمائے گا۔