Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین
227 - 627
 شخص کسی قوم کے ساتھ محبت کرتاہے مگر اُن جیسے اَعمال نہیں کرسکتا؟ ‘‘فرمایا:’’اے ابو ذر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ !  تم اُسی کے ساتھ ہوگے جس سے تمہیں محبت ہے۔‘‘میں نے عرض کی :’’میں اللہعَزَّوَجَلَّ اور اس کے رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے محبت کرتا ہوں۔‘‘ارشاد فرمایا:’’اے ابو ذر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ !  تم جس کے ساتھ محبت کرتے ہو اسکے ساتھ ہی رہوگے۔‘‘(ابو داؤد ، کتاب الادب، باب احباء الرجل، ۴/۴۲۹، حدیث:۵۱۲۶) اس حدیث سے یہ پتہ چلا کہ ہمیں اچھوں سے محبت اور انہیں کی صحبت اختیار کرنی چاہیے اچھوں کی صحبت دنیا میں بھی فائدہ مند اور آخرت میں بھی سرخروئی کا باعث ہے جبکہ برے لوگوں اور بدمذہبوں کی صحبت صاحبِ ایمان کے لئے زہرِ قاتل ہے۔ چنانچہ، 
بری صحبت سے بچو ،ایمان کی حفاظت کرو 
	 میرے آقا اعلیٰ حضرت عظیم البرکت عظیم المرتبت پروانۂ شمعِ رسالت مجدد دین و ملت مولانا شاہ امام احمد رضا خان عَلَیْہ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن  اپنے فتاوی میں فرماتے ہیں : ’’ان (بد مذہبوں ) کے پاس نشست وبرخاست حرام ہے ان سے میل جول حرام ہے اگرچہ اپنا باپ یا بھائی بیٹے ہوں۔اللہ عَزَّوَجَلَّ نے فرمایا:
وَاِمَّا یُنْسِیَنَّکَ الشَّیْطٰنُ فَلَا تَقْعُدْ بَعْدَ الذِّکْرٰی مَعَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ o (پ۷،  الانعام:۶۸)
ترجمۂ کنز الایمان :اور جو کہیں تجھے شیطان بھلاوے تو پھر یاد آئے پر ظالموں کے پاس نہ بیٹھ ۔

وقال تعالٰی (اور اللہ عَزَّوَجَلَّ نے فرمایا)
لَا تَجِدُ قَوْمًا یُّؤْمِنُوْنَ بِاﷲِ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِ یُوَادُّوْنَ مَنْ حَادَّاﷲَ وَرَسُوْلَہُ وَلَوْ کَانُوْا آبَائَہُمْ اواَبْنآئَ ھُمْ اَوْاِخْوَانَہُمْ اَوْعَشِیْرَتَہُمْ (پ۲۸، المجادلۃ:۲۲)
ترجمۂ کنز الایمان :تم نہ پاؤ گے ان لوگوں کو جو یقین رکھتے ہیں اللہ اور پچھلے دن پر کہ دوستی کریں ان سے جنہوں نے اللہ اور اس کے رسول سے مخالفت کی اگرچہ وہ ان کے باپ یا بیٹے یا بھائی یا کُنبے والے ہوں۔
	 اوراگر ان کو یقینا کافر جانتا ہے اور پھر ان سے میل جول رکھتا ہے تو اگر چہ اس قدر سے کافر نہ ہوگا مگر فاسق