امامِ اہلسنّت اپنے رسالہ ’’تَجَلِّی الْیَقِیْن بِاَنَّ نَبِیَّنَا سَیِّدُ الْمُرْسَلِیْن‘‘ میں حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو ’’یا محمد‘‘ پکارنے کے بارے میں ارشاد فرماتے ہیں :علما تصریح فرماتے ہیں حضور اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو نام لے کر نِدا کرنی حرام ہے، اور واقعی محلِ انصاف ہے جسے اس کا مالک و مولیٰ تبارک وتعالی نام لے کر نہ پکارے غلام کی کیا مجال کہ راہِ ادب سے تجاوز کرے بلکہ امام زین الدین مراغی وغیرہ محققین نے فرمایا : اگر یہ لفظ کسی دعا میں وارد ہو جو خود نبی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے تعلیم فرمائی جیسے دعائے (یَا مُحَمَّدُ إِنِّیْ تَوَجَّہْتُ بِکَ إِلٰی رَبِّیْ) تاہم اس کی جگہ ’’یَارَسُوْلَ اللہ‘‘ ، ’’یَا نَبِیَّ اللہ ‘‘ چاہیے ، حالانکہ الفاظِ دعا میں حتی الوَسع تَغْیِیْر(تبدیلی) نہیں کی جاتی ۔ (فتاوی رضویہ، ۳۰/ ۱۵۷)
جوبدبخت وملعون شخص نبیِّ کریم، رء وف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو (مَعَاذَاللہ ) گالی دے ، بے اَدَبی کرے یا آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی تنْقِیْص(یعنی عزت میں کمی) کرے گا وہ کافر ہوجائے گا۔چنانچہ،
گستاخ رسول کی سزا
حضرت سیِّدُنا عَلَّامَہ قَاضِی عِیَاض عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَھَّاب فرماتے ہیں : ’’علمائے کرام رَحِمَھُمُ اللہُ السَّلَامکا اِجماع ہے کہ شا تِمِ نبی ( یعنی نبی کو گالی دینے والا)اور آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کیتَنْقِیْص(یعنی عزت میں کمی)کرنے والا کافر ہے۔ اس پر عذابِ الٰہی کی وعید جاری ہے اور اُمّتِ مسلمہ کے نزدیک اس کا حکم قتل ہے ۔ وَمَنْ شَکَّ بِکُفْرِہٖ وَعَذَابِہٖ کَفَرَ۔یعنی جو اس کے کفر اور مستحقِ عذاب الٰہی ہونے میں شک کرے وہ کافر ہے ۔ ‘‘
(الشفا بتعریف حقوق المصطفی، ۲/۲۱۵-۲۱۶)
’’قِیامت کے دن ہر شخص اپنے محبوب کے ساتھ ہوگا ‘‘ حدیثِ پاک میں اس بات کا بھی ذکر ہے کہ جو شخص جس سے محبت کرے گا بروزِ قیامت اسی کے ساتھ ہوگا، جیسا کہ احادیث میں بھی اس بات کا ذکر ہے۔ چنانچہ، حضرتِ سَیِّدُنا ابو ذررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کیا ’’یَا رَسُوْلَ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!ایک