وَسَلَّمکا اِجلال و اِکرام و اَدب واِحترام تعلیم فرمایا گیا اور حکم دیا گیا کہ نِدا کرنے (پکارنے) میں اَدَب کا پورا لحاظ رکھیں جیسے آپس میں ایک دوسرے کو نام لے کر پُکارتے ہیں اس طرح نہ پکاریں بلکہ کلماتِ اَدَب و تعظیم و توصیف وتکریم والقابِ عظمت کے ساتھ عرض کرو جو عرض کرنا ہو ،کہ ترکِ ادب سے نیکیوں کے برباد ہونے کا اندیشہ ہے ۔
شانِ نزول :حضرتِ سَیِّدُنا ابنِ عبَّاس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے مروی ہے کہ یہ آیت ثَابِت بِن قَیْس بِن شَمَّاس کے حق میں نازل ہوئی انہیں ثِقلِ سماعت(اونچا سننے کا مرض) تھا اور آواز اُن کی اُونچی تھی ، بات کرنے میں آواز بلند ہوجایا کرتی تھی ، جب یہ آیت نازل ہوئی تو حضرت ثابت رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ اپنے گھر میں بیٹھ رہے اور کہنے لگے کہ میں اہلِ نار سے ہوں ، حضورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے حضرت سعدرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے اُن کا حال دریافت فرمایا، اُنھوں نے عرض کی: وہ میرے پڑوسی ہیں اور میرے علم میں انہیں کوئی بیماری تو نہیں ہوئی ، پھر آ کر حضرت ثابت رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے اس کا ذکر کیا ، ثابت نے کہا:’’ یہ آیت نازل ہوئی اور تم جانتے ہو کہ میں تم سب سے زیادہ بلند آواز ہوں تو میں جہنّمی ہوگیا۔ ‘‘ حضرت سعد رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے یہ حال خدمتِ اقدس میں عرض کیا: تو حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:’’ وہ اہلِ جنّت سے ہے ۔‘‘ (مسلم، کتاب الایمان، باب مخافۃ المؤمن ان یحبط عملہ، ص۷۳، حدیث:۱۱۹) (خزائن العرفان، پ۲۶، الحجرات :۲)
حدیثِ مذکور میں دیہاتی صحابی نے حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے اونچی آواز میں کلام کیا حالانکہ قراٰن میں اللہ عَزَّوَجَلَّ نے حضورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے اونچی آواز سے بات کرنے سے منع فرمایا ہے اس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ وہ دیہات کے رہنے والے تھے اور آدابِ بارگاہِ نبوت سے ناآشنا تھے اس لئے انہوں نے اس طرح کلام کیا اور ایک توجیہ عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْبَارِی نے مِرْقَاۃُ الْمَفَاتِیْح میں یہ بیان فرمائی ہے کہ اونچی آواز سے مراد جان بوجھ کر اختیاری طور پر اونچی آواز سے بات کرنا ہے جو کہ بے ادبی کا موجب ہے ۔ (جب کہ یہاں ایسا معاملہ نہیں تھا) (مرقاۃ المفاتیح ، کتاب المناقب والفضائل، باب جامع المناقب، ۱۰/۵۸۲، تحت الحدیث:۶۲۱۱)