Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین
224 - 627
مدینے والے مصطفیٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمْ کی شَفقَت ورَحمت پرکہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے بالکل بھی نہ جھڑکا بلکہ اُس کی دِلجوئی کے لئے اس جیسی ہی بلند آواز میں اسے جواب دیا۔ ہمارے پیارے نبی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی شَفقَت ومَحَبَّت کے تو کیا کہنے! آپ کو اپنی اُمّت سے بہت زیادہ پیار ہے ،وہ ہمارے گناہوں اور خطا ؤں کے باوجود ہمیں دُھتکارتے نہیں بلکہ اپنے رَحمت بھرے دَامن میں چُھپا لیتے ہیں۔ 
اپنے خطاواروں کواپنے ہی دامن میں لو		کون کرے یہ بھلا تم پہ کروڑوں درود
ہم نے خطا میں نہ کی تم نے عطا میں نہ کی		کوئی کمی سَروَرا تم پہ کروڑوں درود
اور
جو غم زَدوں کو گلے لگا لے بُروں کو دامن میں جو چھپا لے		ہے دوسرا کون اس جہاں میں سوائے خَیْرُالاَنام ایسا
	بار گاہِ رِسالت کے آداب 
	بارگاہِ رِسالت کے آداب بیان کرتے ہوئے اللہ عَزَّوَجَلَّ   قراٰنِ پاک میں ارشاد فرماتا ہے :
یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَرْفَعُوْ ٓا اَصْوٰتَکُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِیِّ وَلَا تَجْہَرُوْا لَہٗ بِالْقَوْلِ کَجَھْر بَعْضِکُمْ لِبَعْضٍ اَنْ تَحْبَطَ اَعْمٰلُکُمْ وَ اَنْتُم لَاْ تَشْعُرُوْنَ۔ (پ۲۶،الحجرات:۲)

ترجمۂ کنزالایمان: اے ایمان والو! اپنی آوازیں اونچی نہ کرو اس غیب بتانے والے (نبی)کی آواز سے اور ان کے حضور بات چلّا کر نہ کہو جیسے آپس میں ایک دوسرے کے سامنے چلّاتے ہو کہ کہیں تمہارے عمل اَکارت نہ ہوجائیں اور تمہیں خبر نہ ہو۔
	 صدرُ ا لا فاضِل حضرتِ علّامہ مولانا سَیِّدمحمد نعیم الدین مُراد آبادی  عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْھَادِیاس آیتِ مبارکہ کی تفسیر بیان کرتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں :’’ جب حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی جناب میں کچھ عرض کر و تو آہستہ پَست آواز سے عرض کرو ، یہی دربارِ رسالت کا اَدَب و اِحترام ہے ،اس آیت میں حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ