Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین
223 - 627
(3) مَسح کی مدت پوری ہو گئی اور قوی اندیشہ ہے کہ موزے اتارنے میں سردی کے سبب پاؤں جاتے رہیں گے تو نہ اتارے اور ٹخنوں تک پورے موزے کا (نیچے اوپر اغل بغل اور ایڑیوں پر) مَسح کرے کہ کچھ رہ نہ جائے۔ 
(4) موزے اتار دینے سے مَسح ٹوٹ جاتا ہے اگرچہ ایک ہی اتارا ہو۔ یوہیں اگر ایک پاؤں آدھے سے زِیادہ موزے سے باہر ہو جائے تو جاتا رہا،موزہ اتارنے یا پاؤں کا اکثر حصہ باہر ہونے میں پاؤں کا وہ حصہ معتبر ہے جو گٹوں سے پنجوں تک ہے پنڈلی کا اعتبار نہیں ان دونوں صورتوں میں پاؤں کا دھونا فرض ہے۔  
(5) موزہ ڈھیلا ہے کہ چلنے میں موزے سے اَیڑی نکل جاتی ہے تو مَسح نہ گیا۔ ہاں اگر اُتارنے کی نیت سے باہر کی تو ٹوٹ جائے گا۔   
(6) موزے پہن کر پانی میں چلا کہ ایک پاؤں کا آدھے سے زِیادہ حصہ دُھل گیا یا اور کسی طرح سے موزے میں پانی چلا گیا اور آدھے سے زِیادہ پاؤں دُھل گیا تو مَسح جاتا رہا۔   
(7) پائتا بوں (جُرّابوں ) پر اس طرح مَسح کیا کہ مَسح کی تری مَوزوں تک پہنچی تو پائتابوں کے اتارنے سے مَسح نہ جائے گا۔					(بہارِ شریعت ،  ۱/۳۶۷، حصہ ۲)
مَدَنی مشورہ : مزید معلومات اور علم میں اِضافے کے لئے بہارِ شریعت حصہ دوم کا مطالعہ فرمائیں۔اِنْ شَاءَ اللہ عَزَّوَجَلَّ  ڈھیروں معلومات کا خزانہ ہاتھ آئے گا۔
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب	صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
اپنے گناہ گار کو اپنے ہی دامن میں لو 
 	 صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِضْوَان بارگاہ ِ نَبُوَّت میں حاضری کے آداب سے بخوبی واقف تھے اسی لئے جب انہوں نے اُس اَعرابی کی بلند آواز سنی تواُسے اِس انداز میں گفتگو کرنے سے منع فرمایا۔ لیکن شہر سے دور رہنے کی وجہ سے اسے بارگاہِ رِسالت کے زیادہ آداب معلوم نہ تھے، اِس لئے بُلند آواز سے کلام کیا۔ مگرقربان جائیں غریبوں کے آقا، مدینے