(7) کوئی موزہ پاؤں کی چھوٹی تین انگلیوں کے برابر پھٹا نہ ہو یعنی چلنے میں تین اُنگل بَدَن ظاہر نہ ہوتا ہو اور اگر تین اُنگل پھٹا ہو اور بَدَن تین اُنگل سے کم دکھائی دیتا ہے تو مَسح جائز ہے اور اگر دونوں تین تین اُنگل سے کم پھٹے ہوں اور مجموعہ تین اُنگل یا زِیادہ ہے تو بھی مَسح ہو سکتا ہے۔ سِلائی کُھل جائے جب بھی یہی حکم ہے کہ ہر ایک میں تین اُنگل سے کم ہے تو جائز، ورنہ نہیں۔ (بہارِ شریعت ، ۱/۳۶۳۔۳۶۵، حصہ ۲)
مسئلہ(3) :سوتی یا اُونی موزے پر مَسح جائز نہیں ان کو اتار کر پاؤں دھونا فرض ہے۔ (بہارِ شریعت ، ۱/۳۶۴، حصہ ۲)
مَسح میں ’’2‘‘ فرض ہیں :
(1)ہر موزہ کا مَسح ہاتھ کی چھوٹی تین انگلیوں کے برابر ہونا ۔(2) (مَسح) موزے کی پِیٹھ پر ہونا ۔
مَسح کا طریقہ
سیدھے ہاتھ کی تین انگلیاں ،سیدھے پاؤں کی پُشت کے سِرے پر اور اُلٹے ہاتھ کی اُنگلیاں اُلٹے پاؤں کی پُشت کے سِرے پر رکھ کر پنڈلی کی طرف کم سے کم بقدر تین اُنگل کے کھینچ لی جائیں اور سنّت یہ ہے کہ پنڈلی تک پہنچائے۔
مسئلہ(4):انگلیوں کا تر ہونا ضروری ہے ،ہاتھ دھونے کے بعد جو تَری (گیلا پن) باقی رہ گئی اس سے مَسح جائز ہے اور سر کا مَسح کیا اور ہُنوز(ابھی تک) ہاتھ میں تَری موجود ہے تو یہ کافی نہیں بلکہ پھر نئے پانی سے ہاتھ تر کرلے، کچھ حصہ ہتھیلی کا بھی شامل ہو تو حَرَج نہیں۔ (بہارِ شریعت ، ۱/۳۶۶، حصہ ۲)
مَسح ٹوٹنے سے متعلق چند مسائل
(1)جن چیزوں سے وُضو ٹوٹتا ہے اُن سے مَسح بھی جاتا رہتا ہے۔
(2)مُدَّت پوری ہوجانے سے مَسح ٹوٹ جاتا ہے اوراس صورت میں صرف پاؤں دھولینا کافی ہے پھر سے پورا وُضو کرنے کی حاجت نہیں اور بہتریہ ہے کہ پورا وُضو کرلے۔