Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین
221 - 627
موزوں پر مَسح کے مسائل 
	حدیثِ مذکور میں  موزوں پر مَسح کے مُتَعَلِّق بیان ہوا۔ چنانچہ، اس سے مُتَعَلِّق چند ضروری مسائل بیان کئے جاتے ہیں : 
مسئلہ (1)جو شخص موزہ پہنے ہوئے ہو، وہ اگر وُضو میں بجائے پاؤں دھونے کے مَسح کرے جائز ہے اور بہتر پاؤں دھونا ہے بشرطیکہ مَسح جائز سمجھے، اس کے جواز میں بکثرت حدیثیں آئی ہیں جو قریب قریب تَواتُر کے ہیں ،اِسی لیے امام کَرْخی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَلِی فرماتے ہیں :’’جو اِس کو جائز نہ جانے اس کے کافر ہو جانے کا اندیشہ ہے۔‘‘اِمَام شَیْخُ الْاِسْلَام فرماتے ہیں :’’جو اسے جائز نہ مانے گمراہ ہے۔ ‘‘ (بہارِ شریعت ، ۱/۳۶۳، حصہ ۲)
مسئلہ(2) جس پر غُسل فرض ہے وہ مَوزوں پر مَسح نہیں کرسکتا ۔
	  مَسح کرنے کے لئے چند شرطیں ہیں :
 (1) موزے ایسے ہوں کہ ٹخنے چُھپ جائیں اس سے زِیادہ ہونے کی ضرورت نہیں اورا گردوایک اُنگل کم ہو جب بھی مَسح دُرُست ہے، ایڑی نہ کھلی ہو۔
(2) پاؤں سے چِپٹا ہو، کہ اس کو پہن کر آسانی کے ساتھ خوب چل پھر سکیں۔
 (3) چمڑے کا ہو یا صرف تَلا چمڑے کا اور باقی کسی اور دَبِیز (موٹی )چیز کا جیسے کِرْمِچ(ایک قسم کا ٹاٹ جو عموماً تِرپال بنانے کے کام آتا ہے) وغیرہ۔ 
 (4) وُضو کرکے پہنا ہویعنی پہننے کے بعد اور حدث سے پہلے ایک ایسا وقت ہو کہ اس وقت میں وہ شخص با وُضو ہو خواہ پورا وُضو کرکے پہنے یا صرف پاؤں دھو کر پہنے بعد میں وُضو پورا کر لیا۔
(5) نہ حالت جنابت میں پہنا نہ بعد پہننے کے جُنب ہوا ہو۔
.6(.66.6) مُدّت کے اندر ہو اور اس کی مدت مقیم کے لیے ایک دن رات ہے اور مسافر کے لیے تین دن اور تین راتیں۔