Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین
220 - 627
Rعلم جہالت کے مقابلہ میں دلوں کی زندگی ہے اور تاریکیوں کے مقابلہ میں آنکھوں کا نور ہے، علم کے ذریعے بندہ اَخیار یعنی اولیا کی مَنازِل کو پالیتا ہے اور دنیا و آخرت میں بلند مرتبہ پر پہنچ جاتا ہے اور علم میں غور وفکرکرنا روزوں کے برابر ہے اور اسے سیکھنا سکھانانماز کے برابر ہے ،اسی کے ذریعہ صِلہ رحمی کی جاتی ہے اور اسی سے حلال وحرام کی معرفت حاصل ہوتی ہے اور یہ عمل کا اِمام ہے اور عمل اِس کے تابع ہے اور خوش بختوں کو علم کا اِلہام کیا جاتا ہے جبکہ بد بختوں کو اس سے محروم کردیاجاتا ہے ۔‘‘  		(جامع بیان العلم وفضلہ لابن عبد البر، باب جامع فی فضل العلم، ص۷۷، حدیث:۲۴۰)
 (2)علما کی سیاہی اورشہدا کا خون
	حضرتِ سَیِّدُناابو الدرداء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  سے روایت ہے کہ نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَرصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا: ’’قیامت کے دن عُلَمَا کی سیاہی اور شُہدا کے خون کو تولا جائے گا۔ ‘‘ (جامع بیان العلم وفضلہ لابن عبد البر، باب جامع فی فضل العلم، ص۴۸، حدیث:۱۳۹) ایک روایت میں ہے کہ ’’ علما کی سیاہی شہدا کے خون پر غالب آجائے گی۔ ‘‘					(تاریخ بغداد، محمد بن الحسن، ۲/۱۹۰، حدیث:۶۱۸)
(3)عابِد وعالِم
	 حضرتِ سَیِّدُنا ابواُمَامَہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  فرماتے ہیں کہ نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَروَر، دو جہاں کے تاجوَرصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا :’’ قیامت کے دن عالِم اور عبادت گزار کواٹھایا جائے گا تو عابد سے کہا جائے گا کہ جنت میں داخل ہوجاؤ جبکہ عالِم سے کہا جائے گا کہ جب تک لوگوں کی شفاعت نہ کرلو    ٹھہرے رہو۔‘‘ 
(شعب الایمان، باب فی طلب العلم، ۲/۲۶۸، حدیث:۱۷۱۷)
	مذکورہ روایات سے علم کی فضیلت واہمیت کااندازہ بخوبی لگایا جاسکتا ہے۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ  ہمیں اپنی رِضا کی خاطر علمِ دین حاصل کرنے، اس پر عمل کرنے اور دوسروں تک پہنچانے کی توفیق عطا فرمائے! اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم