Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین
219 - 627
کرنے کے لئے چلا اللہ عَزَّوَجَلَّ اس کے لئے جنت کے راستے آسان فرما دیتاہے اور ملائکہ طالبِ علم کے لئے اپنے پَر بچھا دیتے ہیں اور زمین و آسمان میں موجود ہر شئے اس کے لئے اِسْتِغْفَار کرتی ہے یہاں تک کہ سمندر میں مچھلیاں۔ ایک عالم کی فضیلت عابد پر ایسی ہے جیسے چودھویں کے چاند کی فضیلت تمام ستاروں پر ۔ نیز علمائے کرام رَحِمَھُمُ اللہُ السَّلَام انبیائے کرام عَلَیْھِمُ السَّلَام کے وارث ہیں اور انبیاء عَلَیْھِمُ السَّلَام دِرہَم و دینار کا وارث نہیں بناتے بلکہ وہ علم کا وارث بناتے ہیں۔(عمدۃ القاری، کتاب العلم، باب العلم قبل القول والعمل، ۲/۵۵، تحت الباب)
	اِس حدیثِ پاک میں علم کی فضیلت ، موزوں پر مَسح کے مسائل ، مسلمانوں کی آپس میں مَحَبَّت اور توبہ کی قُبولیت کے مُتَعَلِّق بیان ہوا،علم حاصل کرنے کی بہت فضیلت ہے علمِ دین ایک اچھا ہم نشین، باعثِ برَکت اور ایک لازوال دولت ہے۔ چنانچہ،’’عِلم ‘‘کے 3حروف کی نسبت سے فضیلت ِعلم سے مُتَعَلِّق 3روایات ملاحظہ فرمائیے : 
(1)علم و عُلما کی شان 
	حضرتِ سَیِّدُنا مُعَاذ بن جَبَل رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  سے روایت ہے کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے مَحبوب، دانائے غُیوب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’علم حاصل کرو کیونکہ اللہعَزَّوَجَلَّ کی رِضاکے لیے علم سیکھنا خَشِیَّت، اسے تلاش کرناعبادت ، اس کی تکرارکرناتسبیح اوراس کی جستجو کرنا جہاد ہے اور لاعلم کو علم سکھانا صَدَقہ ہے اور اسے اَہل پہ خرچ کرنا قُربت یعنی نیکی ہے کیونکہ علم حلال و حرام کی پہچان کا ذریعہ ہے اور اہلِ جنت کے راستے کا نشان ہے اور وَحشت میں باعثِ تَسکین ہے اور سفر میں ہم نشین ہے اور تنہائی کا ساتھی ہے اور تنگدستی وخوشحالی میں راہنما ہے، دشمنوں کے مقابلے میں ہتھیار ہے اور دوستوں کے نزدیک زِینت ہے ، اللہ عَزَّوَجَلَّ اس کے ذریعے سے قوموں کوبُلندی وبَرتَری عطا فرماکربھلائی کے مُعاملہ میں قائد اور اِمام بنادیتاہے پھر اُن کے نشانات اور اَفعال کی پَیرَوِی کی جاتی ہے اور اُن کی رائے کو حرفِ آخِر سمجھا جاتاہے اور ملائکہ اُن کی دوستی میں رَغبت کرتے ہیں اوران کو اپنے پرَوں سے چھوتے ہیں اور اُن کے لئے ہر خشک و تر چیز اور سمندر کی مچھلیاں اور جاندار اور خشکی کے دَرِندے اور چوپائے اِستِغفَار کرتے ہیں کیونکہ