کرنے کے بعد موزوں پر مَسح کرنے کے بارے میں میرے دل میں شُبہ پڑگیا ہے، آپ صحابیِ رسول ہیں ،اِس لئے میں آپ سے معلوم کرنے آیا ہوں کہ کیا آپ نے حضورِپاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے اس کے مُتَعَلِّق کچھ سنا ہے؟ فرمایا:’’ہا ں !نبیِّ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ہمیں فرمایا کرتے تھے کہ’’جب ہم حالتِ سفر میں ہوں تو جَنابَت کے علاوہ تین دن رات تک پیشاب،پاخانے یا نیند کی وجہ سے موزے نہ اتاریں۔‘‘میں نے پوچھا: کیا آپ نے مَحَبَّت کے بارے میں بھی نبیِّ اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے کچھ سنا ہے؟ فرمایا:ہاں !ہم ایک سفر میں حضور ِاکرم، نورِ مُجِسَّم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ہمراہ تھے ،ایک اَعرابی نے آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کوبلند آواز سے پکارا،یَامُحَمَّد(صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم)! تورسولِ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اتنی ہی بلند آواز سے جواب دیا کہ ـ’’میں یہاں ہوں ‘‘میں نے اُس اَعرابی سے کہا:تجھ پر افسوس ہے!اپنی آواز پَست کر، کیونکہ تو نبیِّ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے پاس ہے اور تجھے اِس (بُلند آواز)سے منع کیا جاچکاہے۔اُس نے کہا: خدا کی قسم!میں اپنی آواز پَست نہیں کروں گا۔پھراس اَعرابی نے نبیِّ پاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے عرض کی: یَا رَسُوْلَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!ایک آدَمی کسی قوم سے مَحَبَّت کرتا ہے اور ابھی تک وہ اس سے ملا نہیں ؟اَعرابی کی یہ بات سن کر حضورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:’’ قِیامت کے دن ہر شخص اپنے محبوب کے ساتھ ہوگا۔‘‘ حضرتِ زِرّ بِنْ حُبَیْش رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں کہ حضرتِ سَیِّدُناصفوان رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ ہم سے حدیث بیان کرتے رہے یہاں تک کہ انہوں نے مغرب کی جانب ایک دروازے کا ذکر فرمایاجس کی چوڑائی 40یا 70سال کی مَسافَت ہے یا فرمایا: اِس کی چوڑائی میں گُھڑ سوار چالیس یا ستر سال کی راہ چلتا رہے۔حضرتِ سَیِّدُناسفیان َرضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں کہ وہ دروازہ ملک شام کی طرف ہے اسے اللہ عَزَّوَجَلَّ نے اُس دن پیداکیاجس دن آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا وہ سورج کے مغرب کی طرف طلوع ہونے تک توبہ کے لئے کھلا ہواہے۔
انبیاء کے وارث
علامہ بَدْرُ الدِّیْنعَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَنِی عمدۃُ القاری میں فرماتے ہیں علمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام انبیائے کرام عَلَیْھِمُ السَّلَام کے وارث ہیں۔ حضرتِ سَیِّدُنا ابو درداء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے کہ جو علم حاصل