Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین
215 - 627
 لوگوں کی پروا کرتے ہوئے اگر آپ نیکی کے راستے پر چلنے سے کَتراتے رہے اور سنّتوں سے منہ موڑتے رہے لیکن کل جب قیامت کے دن ساری مخلوق کے سامنے اپنا نامۂ اعمال پڑھ کر سنانا پڑے گااور اگر اس میں گناہ ہی گناہ ہوئے تو کس قدر شَرم آئے گی۔ لہٰذا آخرت میں شرمندہ ہونے سے بچنے کے لئے دنیاکی عارضی شَرم وجھجک کو بالائے طاق رکھتے ہوئے فوراً توبہ کی سعادت حاصل کرلینی چاہیے۔اللہ عَزَّوَجَلَّہمارا حامی وناصر ہو اور ہمیں جلد از جلد توبہ کی توفیق عطا فرمائے ! اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مَدَ نی گُلد ستہ 
’’رحمت‘‘ کے 4حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے4 مدنی پھول 
(1)  اللہعَزَّوَجَلَّ اپنے بندوں پر بہت زیادہ مہربان ہے، اس کی رَحمت بہت بڑی ہے وہ مرتے دم تک اپنے بندوں کو توبہ کا موقع عطا فرماتا ہے ۔ انسان کو اپنے کریم پروَردگارعَزَّوَجَلَّ کی رَحمت سے کبھی مایوس نہیں ہونا چاہیے۔
(2)شیطان ہر طرح کے ہَتھکَنڈے اِستِعمال کرکے بندوں کو توبہ سے روکنے کی بھر پور کوشش کرتا ہے۔
(3) عالَمِ نزع میں کافر کی کفر سے توبہ مقبول نہیں ،بلکہ کفر سے توبہ عالَمِ نزع سے پہلے ضروری ہے۔
(4) اگر بار بار اپنا اِحْتِساب کیا جائے،توبہ کے فضائل اور گناہوں کے عذابات کو مدِّنظر رکھا جائے تو توبہ واِستِغفارکی راہ میں رکاوٹ بننے والے اُمور کو دُور کیا جاسکتا ہے۔
	اللہعَزَّوَجَلَّکتنا مہربان اوررحیم ہے کہ بندہ ساری زندگی گناہوں میں گزار دیتا ہے لیکن پھر بھی وہ اپنے بندے کو آخری وقت تک مہلت دیتا ہے کہ اب بھی وقت ہے توبہ کرلے میں تجھے بخش دونگا۔پیارے اسلامی بھائیو!موت کا کچھ پتہ نہیں کس وقت کس لمحے آجائے،اچھا خاصا چلتا پھرتا انسان دیکھتے ہی دیکھتے اچانک موت کا شکار ہو کر اندھیری قبر میں پہنچ جاتا ہے۔اسی طرح ایک دن ہمیں بھی مرنا پڑے گا اپنی کرنی کا پھل بھُگتنا پڑے گا،عقل