ایک ایک رشتے کے بارے میں سوال فرمایا اور وہ یہی کہتا رہا کہ مجھے پسند نہیں اور لوگ بھی رضا مند نہیں۔تب رَسُوْلُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اس کے سینے پر ہاتھ رکھ کر اللہ عَزَّوَجَلَّکی بارگاہ میں عرض کی: ’’یا الٰہیعَزَّوَجَلَّ!اِس کے دل کو پاک کر دے ، اس کی شرمگاہ کی حفاظت فرما اور اس کا گناہ بخش دے۔‘‘اس کے بعد وہ نوجوان تمام عمر زِنا سے بے زار رہا۔(مسند امام احمد، حدیث ابی امامہ الباھی، ۸/۲۸۵، حدیث:۲۲۲۷۴)
اُمید ہے کہ اِس تَفْہِیم کے بعد مذکورہ افراد توبہ کرنے میں دیر نہیں کریں گے ۔اِنْ شَاءَ اللہ عَزَّوَجَلَّ
(10) دنیاوی ترقی سے محروم ہونے کا خوف
بعض لوگ اس لئے توبہ کی سعادت حاصل نہیں کرپاتے کہ انہیں مُتَوَقِّع طور پر حاصل ہونے والی دنیاوی ترقی سے محرومی کا خوف لاحِق ہوتا ہے ۔
اس کا حل:
سرکارِ دوعالم،نُوْرِ مُجَسَّمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا :’’دُنیا کی مَحَبَّت تمام برائیوں کی جڑ ہے۔‘‘ (موسوعۃ ابن ابی الدنیا، کتاب ذم الدنیا، ۵/۲۲، حدیث:۹)
لِہٰذا ایسے لوگوں کو غور کرنا چاہیے کہ آخرت کے مقابلے میں دنیا کو تَرْجِیْح دینا اُنہیں سِوائے ہلاکت کے کچھ نہ دے گا ۔ کیونکہ حدیثِ پاک میں ہے: ’’جو شخص اپنی دنیا سے مَحَبَّت کرتا ہے تو وہ اپنی آخرت کو نقصان پہنچاتا ہے اور جو آخرت سے مَحَبَّت کرتا ہے وہ اپنی دنیا کو نقصان پہنچاتا ہے تو (اے مسلمانو!) فنا ہونے والی چیز (یعنی دنیا) کو چھوڑ کر باقی رہنے والی چیز (یعنی آخرت) کو اِختیار کرو۔ ‘‘
(مسند امام احمد، حدیث ابی موسی الاشعری، ۷/۱۶۵، حدیث:۱۹۷۱۷)
نیز آخرت کے مقابلے میں دنیا کی کیا حیثیت ہے ؟ اس سلسلے میں فرمانِ مصطفیٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ملاحظہ ہو : ’’اللہ عَزَّوَجَلَّکی قسم! دنیاآخرت کے مقابلے میں ایسی ہے جیسے تم میں سے کوئی اپنی انگلی سمندر میں ڈالے