Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین
209 - 627
 بڑی اور خُفیہ وجہ یہ ہوتی ہے کہ وہ کسی عورت کے فتنے میں مبتلا ہوچکے ہوتے ہیں ،لہٰذا! انہیں اِس بات کا خوف ہوتا ہے کہ توبہ کرنے اور مدنی ماحول اپنانے کے بعد انہیں اپنی من پسند شے سے ہاتھ دھونے پڑیں گے ۔ چنانچہ، وہ توبہ کی خواہش کے باوجود توبہ نہیں کر پاتے ۔ 
اس کا حل:
	اس قسم کی آزمائش میں مبتلا لوگوں کو چاہیے کہ وہ وقتی لذّت کی بجائے اُس کے نقصانات مثلاً مال، وقت اورصحت کی بربادی ، خاندان کی بدنامی ، نیکیوں سے محرومی اور اللہ عَزَّوَجَلَّاور اس کے رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی ناراضی وغیرہ پر نگاہ کریں اور ایسے اعمال اِختیار کریں جس سے دنیا میں بھی عافیت نصیب ہو اور آخرت میں بھی کامیابی ملے۔اِس آفت سے چھٹکارے کے لئے اپنے ضمیر سے یہ سوال کریں کہ جو جذبات میں کسی کی بہن یا بیٹی کے بارے میں رکھتا ہوں ،اگر کوئی دوسرا میری بہن یا بیٹی کے بارے میں بھی ایسے خیالات رکھتا ہو تو کیا مجھے یہ گوارہ ہوگا ؟ اس ضمن میں درجِ ذیل حدیث پاک ملاحظہ فرمائیں :
	 ایک نوجوان رَسُوْلُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی بارگاہ میں حاضر ہوااور عرض کرنے لگا :’’یَا رَسُوْلَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم !مجھے زنا کی اجازت دیجئے۔‘‘یہ سنتے ہی صحابۂ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَان جلال میں آ گئے اور اسے مارنا چاہا۔رَسُوْلُ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا کہ’’ اسے نہ مارو۔‘‘پھر اسے اپنے پاس بلا کر بٹھایا اور نہایت نرمی اور شَفقَت کے ساتھ سوال کیا: ’’اے نوجوان!کیا تجھے پسند ہے کہ کوئی تیری ماں سے ایسا فعل کرے؟‘‘اس نے عرض کی: ’’میں اس کو کیسے روا رکھ سکتا ہوں ؟‘‘آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:’’تو پھر دوسرے لوگ تیرے بارے میں اسے کیسے روا رکھ سکتے ہیں ؟‘‘پھر آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے دریافت فرمایا:’’تیری بیٹی سے اگر اس طرح کیا جائے تو تو اسے پسند کرے گا؟‘‘عرض کی:’’ نہیں۔‘‘فرمایا:’’اگر تیری بہن سے کوئی ایسی ناشائستہ حرکت کرے تو ؟اور اگر تیری خالہ سے کرے تو؟‘‘اسی طرح آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے