تیرے کپڑے جلائے گا یا تجھے اس سے ناگوار بُو آئے گی ۔‘‘
(مسلم، کتاب البر، باب استحباب مجالسۃ الصالحین ومجانبۃ قرناء السوء ، ص۱۴۱۴، حدیث:۲۶۲۸)
اس لئے ہمّت کر کے پہلی فُرصت میں بُری صحبت سے اِجْتِنَاب(بچا) کریں کہ اگرہم ایسے افراد کی صحبت اِختیار کئے رہیں گے جو ارتکاب ِ گناہ میں کسی قسم کی شرم محسوس نہ کریں اور ان کا مَطْمَحِ نظر(مقْصَدِ اصلی)صرف دنیا ہو تو سچّی توبہ کا نصیب ہونا محض ایک خواب ہے ۔ لہذا نیک صحبت اِختیار کریں کہ جب ہمیں ایسے اسلامی بھائیوں کی صحبت مُیَسَّر آئے گی جو اپنے ہرفعل میں اللہ عَزَّوَجَلَّ کی گِرِفْت کا خیال رکھنے والے ہوں اور عذاب ِجہنم کے خوف کی وجہ سے ارتکابِ گناہ سے بچتے ہوں تو ہمارے اَندر بھی اِن عُمدَہ اَوصاف کا ظُہور ہونا شروع ہوجائے گا ۔ پھر ہم بھی جَلوَت وخَلوَت میں اللہ عَزَّوَجَلَّ سے ڈرنے والے بن جائیں گے اور یہ خوف ِ خدا ہمیں سابِقہ زندگی میں کئے ہوئے گناہوں پر توبہ کرنے کی طرف مائل کرے گا ۔اِنْ شَاءَ اللہ عَزَّوَجَلَّ
(8) اپنے بارے میں خوش فہمی کا شکار ہونا
بعض لوگ اِس خوش فہمی کا شکار ہوتے ہیں کہ ہم بہت پہلے توبہ کی سعادت حاصل کر چکے ہیں ،لہذا اب ہمیں توبہ کی حاجت نہیں۔
اس کا حل:
ایسوں کو چاہیے کہ توبہ کی شرائط پر غور کریں اور اپنا مُحَاسَبَہ کریں کہ کیا واقعی ہم سچّی توبہ کرچکے ہیں اور کیا بعد ِ توبہ ہم سے کوئی گناہ سرزَد نہیں ہوا ۔ اُمید ہے کہ اس مُحَاسَبے کے بعد اپنے خیالات پر نظرِ ثانی کرتے ہوئے توبہ کی سعادت حاصل ہوگی ۔اِنْ شَاءَ اللہ عَزَّوَجَلَّ
(9)کسی فتنے کا شکار ہونا
بعض لوگ توبہ پر آمادہ ہونے اور بظاہر کوئی رُکاوَٹ نہ ہونے کے باوجود توبہ سے محروم رہتے ہیں۔ اس کی