Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین
207 - 627
 ان کو دوبارہ جہنم میں ڈالے جانے کا حکم دیا جائے گا۔ان میں سے ایک شخص جلدی جلدی دَوزَخ کی طرف جائے گا اور کہتا جائے گاکہ ’’میں گناہوں کے بوجھ سے اتنا ڈر گیا ہوں کہ اب اِس حکم کو پورا کرنے میں کوتاہی نہیں کر سکتا۔‘‘ اور دوسرا کہے گا کہ’’یاالٰہیعَزَّوَجَلَّ ! میں نیک گُمان رکھتا تھا اور مجھے اُمید تھی کہ ایک مرتبہ دوزخ سے نکالنے کے بعد ، دوبارہ دوزخ میں ڈالنا ، تیری رحمت گوارانہ کرے گی۔ ‘‘ تب اللہ عَزَّوَجَلَّ کی رَحمت جوش میں آئے گی اور اُن دونوں کو جنت میں جانے کا حکم دے دیا جائے گا۔ 		(ترمذی، کتاب صفۃ الجہنم، ۴/۲۶۹، حدیث:۲۶۰۸، بتغیر قلیل)
	 انسان سے چاہے کتنے ہی گناہ کیوں نہ ہوجائیں لیکن جب وہ نادِم ہوکر توبہ کے لئے بارگاہِ الٰہی میں حاضر ہو جائے تو اُس کے گناہ معاف کردئیے جاتے ہیں۔ چنانچہ، حضرتِ سَیِّدُنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ رحمت ِ عالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا :اگر تم گناہ کرتے رہو یہاں تک کہ وہ آسمان تک پہنچ جائیں پھر تم توبہ کرو تب بھی اللہ عَزَّوَجَلَّ   تمہاری توبہ قُبول فرمالے گا۔ (ابن ماجہ، کتاب الزہد، باب ذکر التوبہ، ۴/۴۹۰، حدیث:۴۲۴۸)
 (7)    بُری صُحبَت  
	بعض لوگوں کا اُٹھنا بیٹھنا ایسوں کے ساتھ ہوتا ہے جو خود بھی خَسارے میں ہوتے ہیں اور اپنے ساتھ بیٹھنے والوں کو بھی خسارے میں مُبْتَلا  کردیتے ہیں۔ ایسے لوگ نہ خودگناہوں سے توبہ کرتے ہیں اور نہ ہی اپنے دوستوں میں سے کسی کو توبہ کی طرف مائل ہونے دیتے ہیں۔ بلکہ اگر کوئی اُن کی ’’محفل‘‘سے غیرحاضری کرکے سنتوں بھرے اجتماع میں شرکت کے لئے چلا جائے اور دوسرے دن اُنہیں نیکی کی دعوت پیش کرے تو اس کا خوب مذاق اُڑاتے ہیں۔
اس کا حل:
	ہر صحبت اپنا اثر رکھتی ہے ، مکی مدنی سلطان،رحمتِ عَالَمِیان صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اِسی طرف اِشارہ کرتے ہوئے ارشاد فرمایا: ’’اچھے اور برے مُصَاحِب کی مثال ، مُشک اٹھانے والے اور بھٹی جھونکنے والے کی طرح ہے ، مشک اٹھانے والے سے یا تو تُو مشک خریدے گا یا تجھے اس سے عمدہ خوشبو آئے گی جبکہ بھٹی جھونکنے والا یا تیرے