Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین
206 - 627
 ہوجاتے ہیں اور توبہ سے محروم رہتے ہیں۔ 
اس کا حل:
	ایسوں سے عرض ہے کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ  کی رحمت سے مایوس نہیں ہونا چاہیے، اللہ عَزَّوَجَلَّ  نے ارشاد فرمایا:
 لَا تَقْنَطُوْا مِنْ رَّحْمَۃِ اللہِطاِنَّ اللہَ یَغْفِرُ الذُّنُوْبَ جَمِیْعًاط                (پ۲۴، الزمر:۵۳)
ترجمۂ کنزالایمان: اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہو بے شک اللہ سب گناہ بخش دیتا ہے ۔ 
	رحمت ِ خُداوَندی کس طرح اپنے اُمیدوارکو آغوش میں لیتی ہے ،اِس کا اندازہ درج ذیل تین روایات سے لگائیے :
(1)مکی مدنی سرکار،مدینے کے تاجدارصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا :’’حق تعالیٰ اپنے بندوں پر اس سے کہیں زیادہ مہربان ہے ، جتنا کہ ایک ماں اپنے بچے پر شَفقَت کرتی ہے ۔‘‘ 
(مسلم ، کتاب التوبۃ، باب سعۃ رحمۃ اللہ…الخ، ص۱۴۷۲، حدیث:۲۷۵۴)
(2) رحمتِ عالَم ،نُورِ مُجَسَّمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا :اللہ عَزَّوَجَلَّ کی سو رحمتیں ہیں ،ننانوے رحمتیں ،اس نے قیامت کے لئے رکھی ہیں اور دنیا میں فقط ایک رحمت ظاہر فرمائی ہے۔ساری مخلوق کے دل اسی ایک رحمت کے باعث رحیم ہیں۔ماں کی شَفقت و مَحَبَّت  اپنے بچے پر اور جانوروں کی اپنے بچے پر مامتا، اِسی رحمت کے باعث ہے۔قیامت کے دن ان ننانوے رحمتوں کے ساتھ اس ایک رحمت کو جمع کر کے مخلوق پر تقسیم کیا جائے گا،اور ہر رحمت زمین و آسمان کے طبقات کے برابر ہوگی۔ 
(مسلم ، کتاب التوبۃ، باب سعۃ رحمۃ اللہ…الخ، ص۱۴۷۱-۱۴۷۲، حدیث:۲۷۵۲-۲۷۵۳)
(3)حضرتِ سَیِّدُناابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ دو شخصوں کو جہنم سے باہر لایا جائے گا۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ ارشادفرمائے گا:’’ جو عذاب تم نے دیکھا وہ تمھارے ہی عملوں کے سبَب سے تھا ، میں اپنے بندوں پر ظلم نہیں کرتا۔ ‘‘ پھر