Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین
205 - 627
نہیں ؟ اس لئے توبہ کرنے کا کیا فائدہ؟
اس کا حل:
	یہ سَراسَرشیطانی وسوسہ ہے کیونکہ آپ کو کیا معلوم کہ توبہ کرنے کے بعد آپ زندہ رہیں گے یا نہیں ؟ ہوسکتا ہے کہ توبہ کرتے ہی موت آجائے اور گناہ کرنے کا موقع ہی نہ ملے ۔ وقت ِ توبہ آیندَہ کے لئے گناہوں سے بچنے کا پُختہ ارادہ ہونا ضروری ہے ، گناہوں سے بچنے پر اِستِقامَت دینے والی ذات تو اللہ رَبُّ الْعٰلَمِیْنکی ہے ۔اگر ارتکاب ِ گناہ سے محفوظ رہنانصیب نہ بھی ہوا تب بھی کم از کم گُزَشتہ گناہوں سے جان تو چھوٹ جائے گی اور سابقہ گناہوں کا معاف ہوجانا معمولی بات نہیں۔اگر بعد ِ توبہ گناہ ہو بھی جائے تو دوبارہ پُرخلوص توبہ کرلینی چاہیے۔ ہوسکتا ہے یہی آخری توبہ ہو اور اسی پر دنیا سے جانا نصیب ہو۔حضرتِ سَیِّدُنا ابوسعید خدری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے کہ رَسُوْلُ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا :شیطان نے اللہ عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں عرض کی: ’’اے میرے رَبّ! مجھے تیری عِزَّت وجَلال کی قسم!جب تک بندوں کے جسموں میں روح باقی ہے،میں اُنہیں بہکاتا رہوں گا۔‘‘ اللہ عَزَّوَجَلَّنے جواباًارشاد فرمایا:’’ مجھے اپنی عزت وجلال اور بُلندمقام کی قسم!میں ہمیشہ اُس وقت تک اُن کی مغفرت کرتا رہوں گا،جب تک کہ وہ مجھ سے مغفرت مانگتے رہیں گے۔‘‘ (مسند امام احمد، مسند ابی سعید الخدری، ۴/۵۸، حدیث:۱۱۲۳۷) اس انداز میں غور و فکر کرنے سے مذکورہ رُکاوَٹ دور ہو گی اورتوبہ کرنے میں کامیابی نصیب ہوگی ۔ اِنْ شَاءَ اللہ عَزَّوَجَلَّ
(6)کثرت ِگناہ کی وجہ سے مایوسی کا شکار ہوجانا
	بعض لوگ بدقسمتی سے طویل عرصے تک بڑے بڑے گناہوں مثلاً چوری، قتل، ڈاکے،دہشت گردی وغیرہ میں مُبْتَلارہتے ہیں۔ شیطان ان کے دل میں یہ بات ڈال دیتا ہے کہ اتنے بڑے بڑے گناہوں کے بعد تجھے معافی نہیں ملے گی یا اب تیری بخشش ہونا مشکل ہے ۔ علمِ دین سے محروم یہ افراد مایوسی کا شکار ہوکر گناہوں پر مزید دلیر