دیانت داری سے سوچئے کہ رحمت ِ الٰہی پر اِس قدر یقین کا اظہار کہیں سامنے والے کو خاموش کروانے کے لئے تو نہیں ہے ؟ اگر آپ کا یقین اتنا ہی کامل ہے تو کیا آپ اپنا تمام مال ودولت ،گھر بار غریبوں میں تقسیم کرنے کے بعد اس بات کے منتظر ہونے کو تیار ہوں گے کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ اپنی رحمت کے صَدقے آپ کو زمین میں مدفون خزانے کا پتا بتادے گا ۔۔یا ۔۔ ڈاکوؤں کی آمد کی اطلاع ہونے پر آپ اپنے گھر میں موجود تمام روپیہ اور زیورات یہ سوچ کر صحن میں ڈھیر کردینے کی ہمت کریں گے کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ اپنے فَضل سے ڈاکوؤں کو اِس کی طرف سے غافل کردے گا یا اُنہیں اندھا کردے گا اور اِس طرح آپ لُٹ جانے سے محفوظ رہیں گے ؟ اگر اِن سوالوں کا جواب نفی میں ہوتو اب آپ کا یقینِ کامل کہاں رخصت ہوگیا ؟ خدارا! نفس وشیطان کے دھوکے سے اپنی جان چھڑائیے کہ گناہ کر کے توبہ کئے بغیر مغفرت کا اُمیدوار بننے والے کو حدیث ِ نبوی میں اَحمق قرار دیا گیا ہے۔ چنانچہ،سرورِ عالم ،نورِ مجسم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا :’’ سمجھ دار وہ شخص ہے جو اپنا مُحَاسَبَہ کرے اور آخرت کی بہتری کے لئے نیکیاں کرے اور احمق وہ ہے جو اپنے نفس کی خواہشات کی پیروی کرے اور اللہ عَزَّوَجَلَّ سے اِنعامِ آخرت کی امید رکھے ۔‘‘ (ابن ماجہ، کتاب الزہد، باب ذکر الموت والاستعداد لہ، ۴/۴۹۶، حدیث:۴۲۶۰)
ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا:’’ تم میں سے کوئی شخص اللہ عَزَّوَجَلَّ کے حِلم وبُردباری سے دھوکا میں نہ پڑ جائے، جنَّت ودوزخ تمہارے جوتے کے تسمے سے بھی زیادہ قریب ہیں ، پھر آپ نے یہ آیات کریمہ تلاوت فرمائیں :
فَمَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ خَیْرًا یَّرَہٗ0وَمَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ شَرًّا یَّرَہٗ0 (پ۳۰،الزلزلۃ:۷،۸)
ترجمۂ کنز الایمان: تو جو ایک ذرہ بھر بھلائی کرے اسے دیکھے گا اور جو ایک ذرہ بھر بُرائی کرے اسے دیکھے گا ۔
(الکامل لابن عدی، میسرہ بن عبد ربہ تستری، ۸/۱۸۰، حدیث:۱۹۰۸)
(5) توبہ پر اِستِقامت نہ ملنے کا خوف
بعض لوگ یہ عذر پیش کرتے ہیں کہ ہمیں اپنے آپ پر اعتماد نہیں کہ بعد ِ توبہ گناہوں سے بچ پائیں گے یا