Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین
201 - 627
گناہوں کے بغیر اُسے اپنی زندگی بہت اُداس اور وِیران محسوس ہوتی ہے ،یوں وہ توبہ سے محروم رہتا ہے۔ 
اس کا حل:
	اِس قسم کی صورتِ حال سے دوچار شخص اِس طرح غور و فکر کرے کہ جب میں زندگی کے مختصر ایام میں اِن لَذَّتوں کو نہیں چھوڑ سکتا تو مرنے کے بعد ہمیشہ ہمیشہ کے لئے لَذَّتوں (یعنی جنت کی نعمتوں ) سے محرومی کیسے گوارہ کروں گا؟ جب میں صبر کی آزمائش برداشت نہیں کرسکتا تو نارِ جہنم کی تکلیف کس طرح برداشت کروں گا ؟اِن گناہوں میں اگرچہ لَذَّت ہے لیکن اِن کا اَنجام طویل غم کا سبب ہے ،کسی دانا کا قول ہے کہ ’’کبھی لَذَّت کی وجہ سے گناہ نہ کرو کہ لَذَّت جاتی رہے گی لیکن گناہ تمہارے ذِمّے باقی رہ جائے گا اور کبھی مَشَقَّت کی وجہ سے نیکی کو ترک نہ کرو کہ مَشَقَّت  کا اَثر ختم ہوجائے گا لیکن نیکی تمہارے نامۂ اعمال میں محفوظ رہے گی ۔‘‘  
	اِنْ شَاءَ اللہعَزَّوَجَلَّ اِس اَنداز سے غوروفکر کرنے کی بَرَکت سے مذکورہ رُکاوَٹ دُور ہوجائے گی اورتوبہ کرنے میں کامیابی نصیب ہوگی ۔ جب ایسا شخص نیکیوں کی وجہ سے حاصل ہونے والے سکونِ قَلب کو ملاحظہ کرے گا تو گناہوں کی لَذَّت کو بھول جائے گا۔ جیساکہ ایک شخص جسے سبزی بڑی پسند تھی اور وہ کسی دوسرے کھانے حتی کہ گوشت کو بھی خاطر میں نہ لاتا تھا ۔ اُس کا دوست اُسے مرغی کھانے کی دعوت دیتا لیکن وہ یہ کہہ کر اس کی دعوت کو ٹھکرا دیتا کہ اس سبزی میں جو لَذَّت ہے کسی اور کھانے میں کہاں ؟ آخر کار ایک دن جب اس کے دوست نے اُسے مرغی کھانے کی دعوت دی تو اس نے سوچا کہ آج مرغی بھی کھا کر دیکھ لیتے ہیں کہ اس کا ذائقہ کیسا ہے اور مرغی کھانے لگا ۔جب اس نے پہلا لقمہ منہ میں رکھا تو اسے اتنی لَذَّت محسوس ہوئی کہ اپنی پسندیدہ سبزی کو بھول گیا اور کہنے لگا :’’ہٹاؤ اس سبزی کو ،اب میں مرغی ہی کھایا کروں گا ۔‘‘ بلاتشبیہ جب تک کوئی شخص محض گناہوں کی لَذَّت میں مبتلا اور نیکیوں کے سُکون وسُرُور سے ناآشنا ہوتا ہے ،اسے یہ گناہ ہی رونقِ زندگی محسوس ہوتے ہیں لیکن جب اُسے نیکیوں کا نور حاصل ہوجاتا ہے تو وہ گُناہوں کی لَذَّت کو بھول جاتا ہے اور نیکیوں کے ذریعے سُکونِ قَلب کا مُتَلاشِی (تلاش کرنے والا)ہوجاتا ہے ۔