Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین
200 - 627
(1)گُناہوں کے اَنجام سے غَفلت 
	گناہوں کے انجام سے غافِل ہونا بھی توبہ کی راہ میں رُکاوٹ بن جاتا ہے ۔ شاید اس کی وجہ یہ ہے کہ انسان کو جس عذاب سے ڈرایا گیا ہے وہ اس کی نِگاہوں سے اوجھل ہے جبکہ اس کی نفسانی خواہشات کا نتیجہ فوری طور پر اُس کے سامنے آجاتا ہے اور یہ اِنسان کا فطری تقاضا ہے کہ یہ تاخیر سے وُقوع پذیر ہونے والی چیز کے مقابلے میں فوری طور پر حاصل ہونے والی شے کی طرف بہت جلد مُتَوَجِّہ ہوتا ہے ۔ مثلاً بَدکاری کرنے والا فوری طور پر حاصل ہونے والی لَذَّت کی طرف مائل ہوجاتاہے اور اُس کی اُخرَوِی سزا کے بارے میں سوچنے سے غفلت برتتا ہے۔
اس کا حل:
	ایسا شخصغور و فکر کرے کہ اگرچہ یہ عذاب میری نگاہوں سے اوجھل سہی لیکن ہیں تو یقینی ، کتنے ہی دُنیاوی فوائد ایسے ہیں جنہیں میں مستقبل میں ہونے والے نقصان کی وجہ سے چھوڑ دیتا ہوں مثلاً کوئی ڈاکٹر یہ کہہ دے کہ تمہیں دل کا مرض ہے، لہٰذاچکنائی والی چیزیں مثلاً پراٹھا ، سموسے ،پکوڑے وغیرہ کھانا بالکل ترک کردو ،ورنہ تمہاری تکلیف میں اِضافہ ہوجائے گا ۔تو میں مَحض ایک ڈاکٹر کی بات پر اعتبار کرکے آیَندہ نقصان سے بچنے کے لئے اُن اشیاء کو اُن کی تمام تر لَذَّت کے باوجود چھوڑ دیتا ہوں تو کیا یہ نادانی نہیں ہے کہ میں ایک بندے کے ڈرانے پر اپنی لذتوں کو چھوڑ دیتا ہوں لیکن تمام کائنات کے خالِق عَزَّوَجَلَّ کے وعدۂ عذاب کو سچا جانتے ہوئے بھی اپنے نَفس کی ناجائز خواہشات کو ترک نہیں کرتا۔اِس انداز سے غوروفکر کرنے کی بَرَکت سے مذکورہ رُکاوَٹ دور ہوجائے گی اورتوبہ کرنے میں کامیابی نصیب ہوگی ۔ اِنْ شَاءَ اللہ عَزَّوَجَلَّ
(2)  لَذَّتِ گناہ کا دل ودِماغ پر غَلَبہ
	بعض اوقات اِنسان کے دل ودماغ پر مختلف گناہوں مثلاً زِنا، شراب نوشی، بدنگاہی، نامَحْرَم عورتوں سے ہنسی مذاق ، فلم بِینی وغیرہ کی لَذَّت کا اس قَدَر غلبہ ہوجاتا ہے کہ وہ اُن گناہوں کو چھوڑنے کا سوچ بھی نہیں سکتا۔ اُن