Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین
202 - 627
(3) لمبی اُمیدیں 
	توبہ میں تاخیر کا ایک سبب یہ بھی ہوتا ہے کہ نفس وشیطان اِس طرح انسان کا ذہن بناتے ہیں کہ ابھی تو بڑی عمر پڑی ہے بعد میں توبہ کرلینایا ابھی توتم جوان ہو بڑھاپے میں توبہ کرلینایانوکری سے ریٹائر ہونے کے بعد توبہ کرلینا وغیرہ ۔ چنانچہ، ایسا شخص بھی نفس وشیطان کے مشوروں پر عمل کرتے ہوئے توبہ سے محروم رہتا ہے ۔
اس کا حل:
	ایسے شخص کو اس طرح فکر ِمدینہ کرنی چاہیے کہ جب موت یقینی ہے اور مجھے اپنی موت کے آنے کا وقت بھی معلوم نہیں تو توبہ جیسی سعادت کو کل پر مو قوف کرنا نادانی نہیں تو اور کیا ہے ؟جس گناہ کو چھوڑنے پر آج میرا نفس تیار نہیں ہورہا کل اُس کی عادت پُختہ ہوجانے پر میں اُس سے اپنادامن کس طرح بچاؤں گا؟اوراِس بات کی بھی کیا ضَمانَت ہے کہ میں بڑھاپے میں پہنچ پاؤں گا یا نوکری سے ریٹائر ہونے تک میں زندہ رہوں گا ؟ حضرتِ سَیِّدُنا لقمان حکیم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے اپنے بیٹے سے فرمایا:’’ اے میرے بیٹے توبہ میں تاخیر کرنے سے بچ! کیونکہ موت اچانک آ جاتی ہے۔‘‘ 
(شعب الایمان، باب فی معالجۃ کل ذنب بالتوبۃ، ۵/۴۳۹، حدیث:۷۱۹۸)
	پھرموت تو کسی خاص عمر کی پابند نہیں ،بچہ ہو یا بوڑھا ، جوان ہو یا اُدھیڑ عمر یہ بِلااِمتیاز سب کو زندگی کی رَونَقوں کے بیچ سے اُٹھا کر قبر کے گڑھے میں پہنچا دیتی ہے ،یہ وہ ہے کہ جب اِس کے آنے کاوقت آجائے تو کوئی خوشی یا غم ، کوئی مصروفیت یا کسی قسم کے اَدھورے کام اِس کی راہ میں رُکاوَٹ نہیں بن سکتے، ایک دن مجھے بھی موت آئے گی اور مجھے زیرِ ِ زمین دَفن ہونا پڑے گا ، اگر میں بغیر توبہ کئے مر گیا تو مجھے کتنی حسرت ونَدامَت کا سامنا کرنا پڑے گا ، ابھی مہلت مُیَسَّرہے، لہٰذ امجھے فورا توبہ کرلینی چاہیے ۔اِس اَنداز سے غوروفکر کرنے کی بَرَکت سے مذکورہ رُکاوٹ دور ہوجائے گی اور اِنْ شَاءَ اللہ عَزَّوَجَلَّ  توبہ کرنے میں کامیابی نصیب ہوگی ۔